Friday, 18 September 2026

یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا

 یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا

حدودِ دو جہاں کو تج حضورِ لا مکاں گیا

اٹھی نقابِ رخ اُدھر، اِدھر سے شور اٹھا کہ دل

ابھی ابھی یہیں تو تھا کہاں گیا کہاں گیا

جدارِ کعبۂ یقیں میں پھر دراڑ آئے گی

بس اس امیدِ ناز میں یہ دل کشاں کشاں گیا

کبھی حرم کی راہ لی کبھی نجف کا رخ کیا

جدھر گیا تُو ساقیا! ہجومِ مے کشاں گیا

فراز شوق دید ہے کہ دل جنوں میں آخرش

جہاں خدا کے ماسوا کوئی نہ تھا وہاں گیا


علی فراز رضوی

No comments:

Post a Comment