Friday, 18 September 2026

زندگی سے سفر نہیں جاتا

 زندگی سے سفر نہیں جاتا

کیوں مقدر سنور نہیں جاتا

شوقِ آوارگی ہے اس کو بھی

رات بھر میں بھی گھر نہیں جاتا

دے رہا ہے مجھے اذیت یہ

وقت یہ بھی گزر نہیں جاتا

روبرو تب تلک مِرے بیٹھے

جب تلک دل یہ بھر نہیں جاتا

پا لیا ہے اسے مگر پھر بھی

دل سے کھونے کا ڈر نہیں جاتا

موٹ غالب بھی ہو گئی لیکن

درد صاحب مگر نہیں جاتا

جب تمنا نہیں صفی اس کو

کیوں وہ دل سے اتر نہیں جاتا


مزمل صفی

No comments:

Post a Comment