ناقابلِ تلافی
گناہ کرنے کی حاجت ہی
کہاں تھی
کہ میرا جرم تو
دنیا میں اک عورت
کا پیکر لے کے آنا تھا
ناقابلِ تلافی
گناہ کرنے کی حاجت ہی
کہاں تھی
کہ میرا جرم تو
دنیا میں اک عورت
کا پیکر لے کے آنا تھا
بے رنگ کینوس
وقت کے دشتِ بے برگ نے
کس قدر رنگ بدلا ہے دیکھو ذرا
دشتِ بے برگ جو اک سَمے
ایک اک حُسن و رونق کی تصویر تھا
آنکھ کھلتی تھی چاروں سمت
میں سرخرو رہوں گا
نہ دار و زنداں سے ڈرنے والا
میں حق کی منزل کو چلنے والا
میں مال و زر کا، ہوس کا باغی
میں تنگ گوشۂ قفس کا باغی
بہشت میری یہ میری وادی
ہے میرا نعرہ نعرۂ آزادی
پرشاد بول بانٹ کے چورن گیا کوئی
کوئی سخی تو حضرت فن بن گیا کوئی
بولا کوئی زمیں پہ بنا دوں گا میں بہشت
بربادیوں میں جھونک نشمین گیا کوئی
ہے حوصلے کی بات، بڑی بات ہے جناب
نقاد اپنا آپ ہی گر بن گیا کوئی
بے نیازیاں
میں نے دستور کا توڑ کر ہر نِیَّم٭
اکڑی گردن میں آنے دیا یوں نہ خم
داستانیں میں ہر دم سناتا ہوا
گیت میں میں کا ہر آن گاتا ہوا
نیشنل ٹی وی کا میں جُگت باز تھا
ندائے کشمیر
بہت مبارک
میرے عزیزو
تمہارے نعروں کی گونج سے دشمنوں کا دل
بھی لرز گیا ہے
تمہارے پُر جوش بھاشنوں سے کسی کا جیون
وعدہ
ہماری زیست کے اس
دشتِ بے بہاراں میں
جو تم نہیں ہو کہیں، وہ ملال اپنی جگہ
تمہاری یاد کی چادر کو
خود پہ اوڑھ کے ہم