Showing posts with label ثمن ابرار. Show all posts
Showing posts with label ثمن ابرار. Show all posts

Wednesday, 30 November 2022

گناہ کرنے کی حاجت ہی کہاں تھی

 ناقابلِ تلافی


گناہ کرنے کی حاجت ہی

کہاں تھی

کہ میرا جرم تو

دنیا میں اک عورت

کا پیکر لے کے آنا تھا

Thursday, 13 October 2022

بے رنگ کینوس

 بے رنگ کینوس


وقت کے دشتِ بے برگ نے

کس قدر رنگ بدلا ہے دیکھو ذرا

دشتِ بے برگ جو اک سَمے

ایک اک حُسن و رونق کی تصویر تھا

آنکھ کھلتی تھی چاروں سمت

Monday, 3 October 2022

ہمیشہ میں سرخرو رہوں گا

 میں سرخرو رہوں گا


نہ دار و زنداں سے ڈرنے والا

میں حق کی منزل کو چلنے والا

میں مال و زر کا، ہوس کا باغی

میں تنگ گوشۂ قفس کا باغی

بہشت میری یہ میری وادی

ہے میرا نعرہ نعرۂ آزادی

Sunday, 24 July 2022

پرشاد بول بانٹ کے چورن گیا کوئی

 پرشاد بول بانٹ کے چورن گیا کوئی

کوئی سخی تو حضرت فن بن گیا کوئی

بولا کوئی زمیں پہ بنا دوں گا میں بہشت

بربادیوں میں جھونک نشمین گیا کوئی

ہے حوصلے کی بات، بڑی بات ہے جناب

نقاد اپنا آپ ہی گر بن گیا کوئی

Friday, 22 July 2022

میں نے دستور کا توڑ کر ہر نیم

 بے نیازیاں  

               

میں نے دستور کا توڑ کر ہر نِیَّم٭

اکڑی گردن میں آنے دیا یوں نہ خم

داستانیں میں ہر دم سناتا ہوا

گیت میں میں کا ہر آن گاتا ہوا

نیشنل ٹی وی کا میں جُگت باز تھا

Tuesday, 19 April 2022

ندائے کشمیر بہت مبارک میرے عزیزو

ندائے کشمیر


بہت مبارک

میرے عزیزو

تمہارے نعروں کی گونج سے دشمنوں کا دل 

بھی لرز گیا ہے

تمہارے پُر جوش بھاشنوں سے کسی کا جیون

Friday, 15 April 2022

ہماری زیست کے اس دشت بے بہاراں میں

 وعدہ


ہماری زیست کے اس

دشتِ بے بہاراں میں

جو تم نہیں ہو کہیں، وہ ملال اپنی جگہ

تمہاری یاد کی چادر کو

خود پہ اوڑھ کے ہم