Thursday, 13 October 2022

بے رنگ کینوس

 بے رنگ کینوس


وقت کے دشتِ بے برگ نے

کس قدر رنگ بدلا ہے دیکھو ذرا

دشتِ بے برگ جو اک سَمے

ایک اک حُسن و رونق کی تصویر تھا

آنکھ کھلتی تھی چاروں سمت

آشتی، امن و احساس کا نور تھا

نیم روشن سے جھونپڑ کی بُڑھیا

اپنے بالوں میں چاندی بکھیرے ہوئے

داستاں زندگی کی سویٹر میں بُنتی ہوئی

گنگناتی ہوئی

اب کہاں؟

اب کہاں کوئی کھلیان سونا اُگلتا مِلے

کوئی دہقان مٹی کی خوشبو بدن میں سموئے ہوئے

یہ بتاتا مِلے کہ

میری محنت کشی پر مجھے ناز ہے

بانجھ بے فیض مٹی کی بے ثمر سی کوکھ میں

لگن کے رنگ بھرتے ہوئے

زندگی کو جگانا میرا انداز ہے

اب کہاں؟

اب فقط یاد کرتا ہے برگد خزاؤں کا مارا ہوا

موسموں کے جواری سے میووں کی سوغات ہارا ہوا

کہ اس کی گھنی چھت کے سائے تلے

شام کے وقت محفل سجاتے تھے بوڑھے جواں

اپنے سارے دُکھوں کو بُھلائے ہوئے

کھو گئے 

اب کہاں؟

اب کہاں کوئی دوشیزہ 

اپنے کمرے کی کھڑکی سے سر کو ٹکائے ہوئے

چُپ چاپ سی بارشوں کو تکے

اُڑتی تتلی بٹھانے کی خواہش لیے

اپنی انگلی کی پوروں کو آگے کرے

اور یونہی ہتھیلی بھگوتے ہوئے

اپنی پلکوں کی جھالر گِراتی ہوئی

خواب بُنتی ہوئی مسکراتی دِکھے

اب کہاں؟

اب کہاں چھانتا ہے کوئی قیس

واسطے اپنی لیلیٰ کے صحرا کی خاک

اب کہاں کوئی سوہنی بھی کچے گھڑے پر

بھروسہ کرے

کوئی فرہاد اب تیشے کی نوک سے آشنا ہی نہیں

تخت ہزارے کی دھرتی میں سوئی ہوئی

ہیر کی داستاں

اب کہاں؟

کتنے ظالم رہے وقت کے دشتِ بے برگ

کے پیچ و خم

رنگ چھنتے گئے کینوس سے اور اس پر فقط

ایک دُھندلا سا خاکہ رہا

جو گُماں ہے مصور کی راہوں کو تکتے ہوئے

خود کو کھو جائے گا

ختم ہو جائے گا


ثمن ابرار

No comments:

Post a Comment