Thursday, 13 October 2022

کرو وار اب کہ یوں کارگر غم زندگی ہی تمام ہو

 کرو وار اب کہ یوں کارگر، غمِ زندگی ہی تمام ہو

مِرے دُشمنا! تِری جیت ہو، مِرے دوستا! تِرا کام ہو

مِرا عشق تیری تلاش میں پھرے دشتِ ہجر کی دھوپ میں

تِرا ذکر ہو تِری فکر ہو، تِرا نام تکیہ کلام ہو

تِری چاہتوں کا حصار ہو، میری شدتوں کو قرار ہو

تِرے عاشقوں میں شمار ہو، مجھے تیرے کام سے کام ہو

نا غرض کسی سے نا واسطہ، وہی راہرو وہی راستہ

انہیں کیا خبر ہو جہان کی، جنہیں عشقِ عالی مقام ہو

انہیں انتظار نصیب ہو، تُو حبیب جن کا نقیب ہو

وہ محبتوں کے امیں بنیں، تِرا پیار جن کا امام ہو

مِِری روح درد سے چُور ہو، مجھے رات دن ہی سرور ہو

مری چاہتوں کو امر کیا، تِری جستجو کو سلام ہو

مری آرزو جو سُنے خدا، میں تو عرض کرتا ہوں بارہا

یہی چاہے یاسرِ بے نوا، تِرا زر خرید غلام ہو


یاسر عباس

No comments:

Post a Comment