عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو نبیؐ کا غلام ہو جائے
وہ ہمارا امام ہو جائے
آتا جاتا رہوں مدینہ کو
عمر یونہی تمام ہو جائے
بند مٹھی میں حکمِ آقاؐ سے
کنکروں سے کلام ہو جائے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو نبیؐ کا غلام ہو جائے
وہ ہمارا امام ہو جائے
آتا جاتا رہوں مدینہ کو
عمر یونہی تمام ہو جائے
بند مٹھی میں حکمِ آقاؐ سے
کنکروں سے کلام ہو جائے
گھر لپٹ جائے گا قدموں سے کہاں جاؤ گے
اپنی مٹی کی بھی خوشبو کو ترس جاؤ گے
چند روزہ ہے جہاں تھوڑے سے لمحوں کا عروج
اتنا ہی اُچھلو میاں، جتنا کہ سنبھل پاؤ گے
کب تلک سوچو گے بیٹھے ہوئے ساحل کے قریں
تیر جاؤ گے جو دریا میں اُتر جاؤ گے
پلایا اس نے جب سے شربتِ دیدار چٹکی میں
نمایاں ہیں تبھی سے عشق کے آثار چٹکی میں
خزاں دیدہ تھا اس سے پہلے میرا گلشنِ ہستی
مرا باغِ تمنا ہو گیا گلزار، چٹکی میں
کیا عرضِ تمنا میں نے جب وہ ہنس کے یہ بولے
نہیں کرتے کسی سے عشق کا اظہار چٹکی میں
اس دل میں ارمان بہت ہیں
اک ہے گھر مہمان بہت ہیں
میٹھی بولی بول کے دیکھو
لُٹنے کو انسان بہت ہیں
بے کاری، لاچاری، غربت
گھر میں تو سامان بہت ہیں
ہر دعا اگر قبول ہو جائے
زندگی ہی فضول ہو جائے
یہ دعا ہے کہ اپنی ہستی بھی
ان کے قدموں کی دھول ہو جائے
رشک آتا ہے اس کی قسمت پہ
جس کی توبہ قبول ہو جائے
نذر پروین شاکر
بھول جاؤں میں ادا کیسے اس ہرجائی کی
جس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
یاد جب اس کی چلی آئی مِری راہوں میں
لاج رکھ لی ہے اسی نے میری تنہائی کی
ایسے اُجڑا ہے تِرے بعد مِرے دل کا جہاں
اچھی لگتی نہیں آواز بھی شہنائی کی
تمام شہر ہی دشمن ہے کیا کِیا جائے
وفا کے نام سے بد ظن ہے کیا کیا جائے
گرا دیا تھا مرے گھر کو پچھلی بارش نے
کہ پھر سے گھات میں ساون ہے کیا کیا جائے
پڑھائی جاتی ہے مکتب میں اب غلط تاریخ
فسادی ہاتھ میں بچپن ہے، کیا کیا جائے