Showing posts with label منیر ارمان نسیمی. Show all posts
Showing posts with label منیر ارمان نسیمی. Show all posts

Saturday, 27 November 2021

جو نبی کا غلام ہو جائے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو نبیؐ کا غلام ہو جائے

وہ ہمارا امام ہو جائے

آتا جاتا رہوں مدینہ کو

عمر یونہی تمام ہو جائے

بند مٹھی میں حکمِ آقاؐ سے

کنکروں سے کلام ہو جائے

Friday, 26 November 2021

گھر لپٹ جائے گا قدموں سے کہاں جاؤ گے

 گھر لپٹ جائے گا قدموں سے کہاں جاؤ گے

اپنی مٹی کی بھی خوشبو کو ترس جاؤ گے

چند روزہ ہے جہاں تھوڑے سے لمحوں کا عروج

اتنا ہی اُچھلو میاں، جتنا کہ سنبھل پاؤ گے

کب تلک سوچو گے بیٹھے ہوئے ساحل کے قریں

تیر جاؤ گے جو دریا میں اُتر جاؤ گے

Wednesday, 31 March 2021

پلایا اس نے جب سے شربت دیدار چٹکی میں

 پلایا اس نے جب سے شربتِ دیدار چٹکی میں 

نمایاں ہیں تبھی سے عشق کے آثار چٹکی میں 

خزاں دیدہ تھا اس سے پہلے میرا گلشنِ ہستی 

مرا باغِ تمنا ہو گیا گلزار، چٹکی میں 

کیا عرضِ تمنا میں نے جب وہ ہنس کے یہ بولے 

نہیں کرتے کسی سے عشق کا اظہار چٹکی میں

Saturday, 27 March 2021

اس دل میں ارمان بہت ہیں

 اس دل میں ارمان بہت ہیں

اک ہے گھر مہمان بہت ہیں

میٹھی بولی بول کے دیکھو

لُٹنے کو انسان بہت ہیں

بے کاری، لاچاری، غربت

گھر میں تو سامان بہت ہیں

ہر دعا اگر قبول ہو جائے

 ہر دعا اگر قبول ہو جائے

زندگی ہی فضول ہو جائے

یہ دعا ہے کہ اپنی ہستی بھی

ان کے قدموں کی دھول ہو جائے

رشک آتا ہے اس کی قسمت پہ

جس کی توبہ قبول ہو جائے

بھول جاؤں میں ادا کیسے اس ہرجائی کی

 نذر پروین شاکر


بھول جاؤں میں ادا کیسے اس ہرجائی کی

جس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

یاد جب اس کی چلی آئی مِری راہوں میں

لاج رکھ لی ہے اسی نے میری تنہائی کی

ایسے اُجڑا ہے تِرے بعد مِرے دل کا جہاں

اچھی لگتی نہیں آواز بھی شہنائی کی

Saturday, 12 December 2020

تمام شہر ہی دشمن ہے کیا کیا جائے

 تمام شہر ہی دشمن ہے کیا کِیا جائے

وفا کے نام سے بد ظن ہے کیا کیا جائے

گرا دیا تھا مرے گھر کو پچھلی بارش نے

کہ پھر سے گھات میں ساون ہے کیا کیا جائے

پڑھائی جاتی ہے مکتب میں اب غلط تاریخ

فسادی ہاتھ میں بچپن ہے، کیا کیا جائے