موسم بارِش کا ہے
پیارا پیارا سماں ہے
مگر نجانے کیوں
مزاج برہم برہم اور
دل میں اک
اداسی چھائی ہے
موسم بارِش کا ہے
پیارا پیارا سماں ہے
مگر نجانے کیوں
مزاج برہم برہم اور
دل میں اک
اداسی چھائی ہے
سنو اے دل ناداں
بس اتنی گزارش ہے
نئے سال کے نئے دنوں میں
نہ کسی سے وفا کی آرزو کرنا
نہ سفر کی جستجو کرنا
کہ سبھی قول کچے ہوتے ہیں
آنکھیں تو
بے اختیار ہوتی ہیں
یہ کب جانتی ہیں
انہیں کہاں برسنا ہے
کہاں جذب کئے رکھنا
کھارے پانی کو
دل کے کرب کو
اپنی خموشی میں چھپا کر
پلکوں پر سمیٹے
ادھورے خوابوں کی کرچیاں
ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے
میں تنہا کمرے میں سوچ رہی ہوں
اے میرے دل کے مکین
سنو
اے میرے دل کے مکین
میں تیری جستجو میں
ذرا بھی بے زار نہیں
لیکن کبھی کبھی
کھڑکی کے اس پار
اب چڑیا
گھونسلہ نہیں بناتی
کیونکہ
اب وہ جانتی ہے
کمرے کا مکین