Wednesday, 16 February 2022

سنو اے میرے دل کے مکین

اے میرے دل کے مکین


سنو

اے میرے دل کے مکین

میں تیری جستجو میں

ذرا بھی بے زار نہیں

لیکن کبھی کبھی

تھک سی جاتی ہوں

رات کی خامشی میں

سمٹ کر خود اپنی آغوش میں

تمہارا نام لکھ کر

دل کو بہلاتے ہوئے

خیالوں میں تیرے وصل کے خواب

صبح ہوتے ہی سب

ادھورے خوابوں کی راکھ کو

آنسووں میں بہاتے بہاتے

تھک سی جاتی ہوں

گہرے سناٹوں سے

تمہارا ذکر کرتے ہوئے

کبھی یوں ہوتا ہے

قسمت کی دیوی

مجھ پر مہرباں ہوجاتی ہے

تمہارے کچھ الفاظ

گلابوں کی صورت

میری جھولی میں آگرتے ہیں

پھر دنوں تک

ان گلابوں کی خوشبو سے

من کو سراب کرتی ہوں

ہاں لیکن کبھی کبھی

تھک سی جاتی ہوں

سنو

اے میرے دل کے مکین

تمہاری ادھوری اور

بے ربط باتوں کے سہارے

زندگی جی نہیں جا سکتی

ہاں مگر

زندگی گزاری جا سکتی ہے


راحیلہ منظر

No comments:

Post a Comment