اے میرے دل کے مکین
سنو
اے میرے دل کے مکین
میں تیری جستجو میں
ذرا بھی بے زار نہیں
لیکن کبھی کبھی
تھک سی جاتی ہوں
رات کی خامشی میں
سمٹ کر خود اپنی آغوش میں
تمہارا نام لکھ کر
دل کو بہلاتے ہوئے
خیالوں میں تیرے وصل کے خواب
صبح ہوتے ہی سب
ادھورے خوابوں کی راکھ کو
آنسووں میں بہاتے بہاتے
تھک سی جاتی ہوں
گہرے سناٹوں سے
تمہارا ذکر کرتے ہوئے
کبھی یوں ہوتا ہے
قسمت کی دیوی
مجھ پر مہرباں ہوجاتی ہے
تمہارے کچھ الفاظ
گلابوں کی صورت
میری جھولی میں آگرتے ہیں
پھر دنوں تک
ان گلابوں کی خوشبو سے
من کو سراب کرتی ہوں
ہاں لیکن کبھی کبھی
تھک سی جاتی ہوں
سنو
اے میرے دل کے مکین
تمہاری ادھوری اور
بے ربط باتوں کے سہارے
زندگی جی نہیں جا سکتی
ہاں مگر
زندگی گزاری جا سکتی ہے
راحیلہ منظر
No comments:
Post a Comment