Wednesday, 16 February 2022

دل کو جو شہر کا بازار بنا لیتے ہیں

 دل کو جو شہر کا بازار بنا لیتے ہیں

اپنے ہی گِرد وہ دیوار بنا لیتے ہیں

اس کی جب یاد ستاتی ہے تو پھر کاغذ پر

اپنے ہم باپ کی دستار بنا لیتے ہیں

جب کبھی فہم بغاوت پہ اتر آتا ہے

میر کے شعر کو معیار بنا لیتے ہیں

مجھ کو یکطرفہ غلامی سے بہت نفرت ہے

پر، محبت! تجھے مختار بنا لیتے ہیں

اس پری وش کا بدن شعر میں شامل کر کے

سوچتے رہتے ہیں، اشعار بنا لیتے ہیں

یاد جب آتا ہے یونس! کبھی ماضی اپنا

گھر میں ہی غار کے آثار بنا لیتے ہیں


یونس امین

No comments:

Post a Comment