سامنا جب ہوا صحرا کا، بدلتے دیکھا
پیار کا ہانپتا دریا بھی اترتے دیکھا
ہم نے جھیلی ہے بدلتے ہوئے چہروں کی تپش
ہم نے اپنوں کے بھی لہجوں کو بدلتے دیکھا
دیکھا آنکھوں میں بدلتے ہوئے اظہار کا رنگ
روح کو جسم سے ہم نے بھی بچھڑتے دیکھا
دوستوں سے جو مفادات کا ٹکراؤ ہوا
ہم نے احباب کے چہروں کو بگڑتے دیکھا
میں کنارے کے کہیں پار سلگتا ہی رہا
سوہنی کو بھی گھڑا چھوڑ کے چلتے دیکھا
رکھ سکی دل کو نہ محفوظ کوئی شہر پناہ
درد اور دکھ کے پرندوں کو اترتے دیکھا
حنیف دیپ
No comments:
Post a Comment