ہم آفتاب سمجھتے تھے اور کیا نکلا
شکستہ قبر کا ٹوٹا ہوا دیا 🪔 نکلا
دیارِ فکر میں ہے روشنی مرے دم سے
اسی فریب میں ہر شخص مبتلا نکلا
خود اپنی ذات میں دیکھا نہ جھانک کر اس نے
خدا کو ڈھونڈنے جو بندۂ خدا نکلا
مجھے دلوں میں محبت کا اسم پھونکنا تھا
کوئی بھی دہر میں میرا نہ ہمنوا نکلا
خوشا کچھ اہلِ جنوں تھے کہ جن کے شانوں میں
صلیبِ شوق اٹھانے کا حوصلہ نکلا
تمہاری ذات ہی صندل مزاج تھی طارق
سو کیا عجب کہ تِری آستیں سے کیا نکلا
اقبال طارق
No comments:
Post a Comment