Showing posts with label حبیب سیفی. Show all posts
Showing posts with label حبیب سیفی. Show all posts

Friday, 8 March 2024

فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتے

 فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتے

کہ سچائی کے حامی بھی نظر جلدی نہیں آتے

تلاش رزق میں کچھ اس قدر مصروف رہتا ہوں

مری بچی یہ کہتی ہے کہ گھر جلدی نہیں آتے

نہ غم کا غم ہے مجھ کو اب نہ خوشیوں کی خوشی مجھ کو

اب آنکھوں میں بھی اشکوں کے گہر جلدی نہیں آتے

Friday, 1 December 2023

ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہرا

 ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہرا

جو چاہے پڑھ لے ہمارا چہرہ کتاب ٹھہرا

سنا تھا کانوں سے جو بھی اس نے وہ سب حقیقت

ہماری آنکھوں نے جو بھی دیکھا وہ خواب ٹھہرا

اکٹھا زر کر لیا ہے اس نے بھی اپنے گھر میں

رذیل جتنا تھا،۔ اتنا عزت مآب ٹھہرا

Monday, 27 November 2023

کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہو گا

 کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہو گا

ہُوا گر کچھ مِرے حق میں صِلہ تدبیر کا ہو گا

مِری ہر شب گُزر جاتی ہے اکثر اس تمنّا میں

کوئی تو خواب میری اس نئی تعبیر کا ہو گا

بزرگوں کا بھی سایہ اب تو سر سے چِھن گیا اپنے

کہ یہ بھی حادثہ لکھا مِری تقدیر کا ہو گا

Sunday, 12 December 2021

لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیں

 لگا ہے جو دل پر مِرے تیر دیکھیں

ملی کیا محبت میں جاگیر دیکھیں

ہے چہرے پہ میرے ہر اک حرف کندہ

مِرے آنسوؤں کی بھی تحریر دیکھیں

ہوئے رائیگاں اپنے اعمال سارے

نہ لائی اثر کوئی تدبیر دیکھیں