فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتے
کہ سچائی کے حامی بھی نظر جلدی نہیں آتے
تلاش رزق میں کچھ اس قدر مصروف رہتا ہوں
مری بچی یہ کہتی ہے کہ گھر جلدی نہیں آتے
نہ غم کا غم ہے مجھ کو اب نہ خوشیوں کی خوشی مجھ کو
اب آنکھوں میں بھی اشکوں کے گہر جلدی نہیں آتے