Showing posts with label شاہین عباس. Show all posts
Showing posts with label شاہین عباس. Show all posts

Monday, 15 July 2024

ہو رہی ہے پھر لہو میں ابتدائے کربلا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہو رہی ہے پھر لہو میں ابتدائے کربلا

سر سے پا تک کچھ نہیں ہے ماسِوائے کربلا

سامنے آتا ہے پانی تو میں ہٹ جاتا ہوں دُور

پیاس کو محفوظ رکھتا ہوں برائے کربلا

زندگی ہی زندگی تھا نوکِ نیزہ پر وہ سر

روشنی ہی روشنی تھی وہ ہوائے کربلا

Thursday, 3 February 2022

غبار شام وصل کا بھی چھٹ گیا

 غبار شامِ وصل کا بھی چھٹ گیا

یہ آخری حجاب تھا جو ہٹ گیا

حضوری و غیاب میں پڑا نہیں

مجھے پلٹنا آتا تھا، پلٹ گیا

تِری گلی کا اپنا ایک وقت تھا

اسی میں میرا سارا وقت کٹ گیا

Wednesday, 21 April 2021

ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھے

 ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھے

جو زخم اس کو آیا ہے آیا نہیں مجھے

دیوار کو گِرا کے اُٹھایا بھی میں نے تھا

دیوار نے گِرا کے اُٹھایا نہیں مجھے

میں خود بھی آ رہا تھا جگہ ڈھونڈتے ہوئے

یاں تک یہ انہدام ہی لایا نہیں مجھے

Tuesday, 20 April 2021

عہد جفا سے وصل کا لمحہ جدا کرو

 عہدِ جفا سے وصل کا لمحہ جدا کرو

منزل سے گرد، گرد سے رستا جدا کرو

میں تھا کہ اپنے آپ میں خالی سا ہو گیا

اس نے تو کہہ دیا، مِرا حصہ جدا کرو

شبزادگاں! تم اہلِ خبر سے نہیں، سو تم

اپنا مدار، اپنا مدینہ جدا کرو

Tuesday, 13 October 2020

مجھ سے آگے نظر آنے میں خوشی تھی اس کی

 مجھ سے آگے نظر آنے میں خوشی تھی اس کی

میری زنجیر سے زنجیر بڑی تھی اس کی

اک روایت تھی کہ اس شہر میں اک شخص ہے کم

اس نے ثابت کیا آ کر یہ کمی تھی اس کی

اب جو سنتا ہوں تو کچھ اور سنا جاتا ہے

کبھی میری تھی یہ آواز کبھی تھی اس کی

Sunday, 4 October 2020

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

 پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا

اے محبت تیرے دکھ سے دوستی آساں نہ تھی

تجھ سا ہو کر تیری ویرانی کا اندازہ ہوا

عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خو د پر کئے

عمر بھر میں عالمِ فانی کا اندازہ ہوا

Saturday, 3 October 2020

کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں

 کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں

پھر بھی یہ خوف سا ہے کہ سب دیکھتا ہوں میں

آنکھیں تمہارے ہاتھ پہ رکھ کر میں چل دیا

اب تم پہ منحصر ہے کہ کب دیکھتا ہوں میں

آہٹ عقب سے آئی اور آگے نکل گئی

جو پہلے دیکھنا تھا وہ اب دیکھتا ہوں میں

Friday, 2 October 2020

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی

 اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی

کبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھی

بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم تو

بہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی

ہمیں ان حالوں ہونا بھی کوئی آسان تھا کیا

محبت ایک تھی اور ایک بھی ہوتی نہیں تھی

Saturday, 5 September 2020

محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے

محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے 
ہمارا کام تھوڑا ہے،۔ مگر مہلت زیادہ ہے 
ہمیں اس عالم ہجراں میں بھی رک رک کے چلنا ہے 
انہیں جانے دیا جاۓ، جنہیں عجلت زیادہ ہے 
یہ دل باہر دھڑکتا ہے یہ آنکھ اندر کو کھلتی ہے 
ہم ایسے مرحلے میں ہیں جہاں زحمت زیادہ ہے 

موجہ خون پریشان کہاں جاتا ہے

 موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے 

مجھ سے آگے مرا طوفان کہاں جاتا ہے 

میں تو جاتا ہوں بیابان نظر کے اس پار 

میرے ہمراہ بیابان کہاں جاتا ہے 

اب تو دریا میں بندھے بیٹھے ہیں دریا کی طرح 

اب کناروں کی طرف دھیان کہاں جاتا ہے 

لوگ ہم جیسے بھی کچھ دیر گوارہ کیے جائیں

لوگ ہم جیسے بھی کچھ دیر گوارا کیے جائیں
ایک نام، ایک ندا پر جو گزارا کیے جائیں
اب ضروری نہیں، ہاتھوں سے جلائیں یہ چراغ
یہ بھی کافی ہے کہ آنکھوں سے اشارا کیے جائیں
اس سے آگے نہ زمیں ہے نہ زمانہ کوئی اور
اب کہاں تک تِری خوشبو سے کنارا کیے جائیں

Thursday, 13 February 2020

نقش تھا اور نام تھا ہی نہیں

نقش تھا اور نام تھا ہی نہیں
یعنی میں اتنا عام تھا ہی نہیں
خواب سے کام تھا وہاں کہ جہاں
خواب کا کوئی کام تھا ہی نہیں
سب خبر کرنے والوں پر افسوس
یہ خبر کا مقام تھا ہی نہیں

کہاں کا زخم کہاں پر دکھائی دینے لگا

زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا 
میں دیکھتا ہوا پتھر دکھائی دینے لگا 
وہ سامنے تھا تو کم کم دکھائی دیتا تھا
چلا گیا تو برابر دکھائی دینے لگا
کچھ اتنے غور سے دیکھا چراغ جلتا ہوا
کہ میں چراغ کے اندر دکھائی دینے لگا

روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی

روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی 
خاک دریافت مِری، خاک اڑانے سے ہوئی 
تُو نے چپ سادھ لی موضوعِ محبت دے کر 
گفتگو تجھ سے جو ہونی تھی، زمانے سے ہوئی 
اپنے بارے میں وہ اک بات جو ہوتی نہیں تھی 
تیری آواز میں آواز ملانے سے ہوئی 

Friday, 17 January 2020

سو میرے ساتھ کوئی دوسرا خراب نہ ہو

سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہو
یہ طاقِ چشم اب اتنا بھی کیا خراب نہ ہو؟
ازل ابد میں ٹھنی ہے، سو میں نکلتا ہوں
مِری کڑی سے تِرا سلسلہ خراب نہ ہو
ازل ابد میں ٹھنی ہے سو میں نکلتا ہوں 
مِری وجہ سے تِرا سلسلہ خراب نہ ہو 

اتنی آوازیں نہیں دنیا میں جتنا شور ہے

اس گلی میں کچھ نہیں، بس گھٹتا بڑھتا شور ہے 
اک مکیں کی خامشی ہے، اک مکاں کا شور ہے 
شامِ شور انگیز! یہ سب کیا ہے بے حد و حساب 
اتنی آوازیں نہیں، دنیا میں جتنا شور ہے 
آنگن آنگن تکیہ برداروں کو اب کیا کیا بتائیں 
آنکھ میں کیا خواب ہے اور خواب میں کیا شور ہے 

مسلسل ایک ہی تعزیر سے تنگ آ گئے ہیں

کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں
یہ گھر تعمیر در تعمیر سے تنگ آ گئے ہیں
کئی عالم میں شور اٹھتا ہے اس زنجیرِ پاسے
کئی عالم مِری زنجیر سے تنگ آ گئے ہیں
تو کیا اس راز سے سینہ چھڑا لیں، سانس لے لیں
ہم اس تصویر میں، تصویر سے تنگ آ گئے ہیں

ہوا کے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی

ہوا کے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی
کبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھی
بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم تو
بہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی
کہانی کا جنہیں کچھ تجربہ ہے، جانتے ہیں 
کہ دن کیسے ہوا، جب رات بھی ہوتی نہیں تھی