عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہو رہی ہے پھر لہو میں ابتدائے کربلا
سر سے پا تک کچھ نہیں ہے ماسِوائے کربلا
سامنے آتا ہے پانی تو میں ہٹ جاتا ہوں دُور
پیاس کو محفوظ رکھتا ہوں برائے کربلا
زندگی ہی زندگی تھا نوکِ نیزہ پر وہ سر
روشنی ہی روشنی تھی وہ ہوائے کربلا