Sunday, 4 October 2020

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

 پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا

اے محبت تیرے دکھ سے دوستی آساں نہ تھی

تجھ سا ہو کر تیری ویرانی کا اندازہ ہوا

عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خو د پر کئے

عمر بھر میں عالمِ فانی کا اندازہ ہوا

اک زمانے تک بدن بِن خواب بِن آداب تھے

پھر اچانک اپنی عریانی کا اندازہ ہوا

تیرے ہاتھوں جل اٹھے ہم، تیرے ہاتھوں جل بجھے

ہوتے ہوتے آگ اور پانی کا اندازہ ہوا

لوگ میری بند آنکھوں میں سے گزرے تب انہیں

اپنی اپنی خواب سامانی کا اندازہ ہوا

ایک گھیرا وقت کا ہے دوسرا نا وقت کا

خود نگر کچھ اپنی نگرانی کا اندازہ ہوا

صورتیں بگڑیں تو اپنی حالتوں میں آئے ہم

آئینہ ٹوٹا تو حیرانی کا اندازہ ہوا

رات اک دہلیز ایسی آ گئی تھی خواب میں

رات کچھ کچھ اپنی پیشانی کا اندازہ ہوا


شاہین عباس

No comments:

Post a Comment