بے زباں کلیوں کا دل میلا کیا
اے ہوائے صبح تُو نے کیا کیا
کی عطا ہر گل کو اک رنگیں قبا
بوئے گل کو شہر میں رُسوا کیا
کیا تجھے وہ صبح کاذب یاد ہے
روشنی سے تُو نے جب پردہ کیا
بے زباں کلیوں کا دل میلا کیا
اے ہوائے صبح تُو نے کیا کیا
کی عطا ہر گل کو اک رنگیں قبا
بوئے گل کو شہر میں رُسوا کیا
کیا تجھے وہ صبح کاذب یاد ہے
روشنی سے تُو نے جب پردہ کیا
بادل چھٹے تو رات کا ہر زخم وا ہوا
آنسو رکے تو آنکھ میں محشر بپا ہوا
سُوکھی زمیں پہ بکھری ہوئی چند پتیاں
کچھ تو بتا نگارِ چمن! تجھ کو کیا ہوا؟
ایسے بڑھے کہ منزلیں رستے میں بچھ گئیں
ایسے گئے، کہ پھر نہ کبھی لوٹنا ہوا
اتنے چپ چاپ کبھی رات کے تارے بھی نہ تھے
اور یوں مہر بہ لب زخم ہمارے بھی نہ تھے
کیسی عجلت میں کیا اپنوں نے اقرارِ شکست
ہم ابھی پوری طرح جنگ تو ہارے بھی نہ تھے
شب کی تزئین کی خاطر ہمیں جانا ہی پڑا
شام کے کام ابھی ہم نے سنوارے بھی نہ تھے
ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو
جو ہو سکے یہ تماشا نہ تو دکھا مجھ کو
کبھی تو کوئی فلک سے اتر کے پاس آئے
کبھی تو ڈسنے سے باز آئے فاصلہ مجھ کو
تلاش کرتے ہو پھولوں میں کیسے پاگل ہو
اڑا کے لے بھی گئی صبح کی ہوا مجھ کو
سفید پھول ملے شاخ سیم بر کے مجھے
خزاں کو کچھ نہ ملا بے لباس کر کے مجھے
تھی دشت خواب میں اک تیری جستجو مجھ کو
کہ تجھ سے شکوے ہزاروں تھے عمر بھر کے مجھے
میں اپنے نام کی تختی میں تھا، شریر ہوا
گلی میں پھینک گئی بے نشان کر کے مجھے