Showing posts with label وزیر آغا. Show all posts
Showing posts with label وزیر آغا. Show all posts

Sunday, 13 November 2022

بے زباں کلیوں کا دل میلا کیا

 بے زباں کلیوں کا دل میلا کیا

اے ہوائے صبح تُو نے کیا کیا

کی عطا ہر گل کو اک رنگیں قبا

بوئے گل کو شہر میں رُسوا کیا

کیا تجھے وہ صبح کاذب یاد ہے

روشنی سے تُو نے جب پردہ کیا

Saturday, 26 March 2022

بادل چھٹے تو رات کا ہر زخم وا ہوا

 بادل چھٹے تو رات کا ہر زخم وا ہوا

آنسو رکے تو آنکھ میں محشر بپا ہوا

سُوکھی زمیں پہ بکھری ہوئی چند پتیاں

کچھ تو بتا نگارِ چمن! تجھ کو کیا ہوا؟

ایسے بڑھے کہ منزلیں رستے میں بچھ گئیں

ایسے گئے، کہ پھر نہ کبھی لوٹنا ہوا

Monday, 7 March 2022

اتنے چپ چاپ کبھی رات کے تارے بھی نہ تھے

 اتنے چپ چاپ کبھی رات کے تارے بھی نہ تھے

اور یوں مہر بہ لب زخم ہمارے بھی نہ تھے

کیسی عجلت میں کیا اپنوں نے اقرارِ شکست

ہم ابھی پوری طرح جنگ تو ہارے بھی نہ تھے

شب کی تزئین کی خاطر ہمیں جانا ہی پڑا

شام کے کام ابھی ہم نے سنوارے بھی نہ تھے

Sunday, 20 December 2020

ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو

 ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو

جو ہو سکے یہ تماشا نہ تو دکھا مجھ کو

کبھی تو کوئی فلک سے اتر کے پاس آئے

کبھی تو ڈسنے سے باز آئے فاصلہ مجھ کو

تلاش کرتے ہو پھولوں میں کیسے پاگل ہو

اڑا کے لے بھی گئی صبح کی ہوا مجھ کو

Friday, 2 October 2020

سفید پھول ملے شاخ سیم بر کے مجھے

 سفید پھول ملے شاخ سیم بر کے مجھے

خزاں کو کچھ نہ ملا بے لباس کر کے مجھے

تھی دشت خواب میں اک تیری جستجو مجھ کو

کہ تجھ سے شکوے ہزاروں تھے عمر بھر کے مجھے

میں اپنے نام کی تختی میں تھا، شریر ہوا

گلی میں پھینک گئی بے نشان کر کے مجھے

Tuesday, 14 January 2020

دھوپ کے ساتھ گیا ساتھ نبھانے والا

دھوپ کے ساتھ گیا ساتھ نبھانے والا
اب کہاں آئے گا وہ لوٹ کے آنے والا
ریت پر چھوڑ گیا نقش ہزاروں اپنے
کسی پاگل کی طرح نقش مٹانے والا
سبز شاخیں کبھی ایسے تو نہیں چٹخی ہیں
کون آیا ہے پرندوں کو ڈرانے والا؟

لازم کہاں کہ سارا بدن خوش لباس ہو

لازم کہاں کہ سارا بدن خوش لباس ہو
میلا بدن پہن کے نہ اتنا اداس ہو
اتنا نہ پاس آ کہ تجھے ڈھونڈتے پھریں
اتنا نہ دور جا کہ ہمہ وقت پاس ہو
ایک جوئے بے قرار ہو کیوں دلکشی تِری
کیوں اتنا تشنہ لب مِری آنکھوں کی پیاس ہو

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے 
آنا ہوا تو اب وہ سرِ عام آئیں گے 
سوچا نہ تھا کہ ابرِ سیہ پوش سے کبھی 
کوندے تیرے بدن کے مرے نام آئیں گے 
اس نخلِ نا مراد سے جو پات جھڑ گئے 
اندھی خنک ہواؤں کے اب کام آئیں گے 

Monday, 5 December 2016

نام اور روپ سے جو بالا ہے

نام اور روپ سے جو بالا ہے
کس قیامت کے نقش والا ہے
چاندنی اس کے تن کی اترن ہے
سبز شبنم، گلے کی مالا ہے
چاپ ابھری ہے دل کے اندر سے
کوئی پلکوں پہ آنے والا ہے

تم اگر پاس بھی ہوتے تو قضا آ جاتی

تم اگر پاس بھی ہوتے تو قضا آ جاتی
اس خرابے سے نکل کر وہ بلا آ جاتی
دیکھ کر کوہِ نِدا ہم سے رکا بھی نہ گیا
ہم ٹھہر جاتے تو ہم تک بھی صدا آ جاتی
شکر کر، ہم نہ گئے ورنہ نگر میں تیرے
دستکیں دیتی ہوئی سرد ہوا آ جاتی

اس یخ بستہ ہوا سے بر سر پیکار ہم بھی تھے

اس یخ بستہ ہوا سے بر سرِ پیکار ہم بھی تھے
اپنے ہی گھر میں بے در و دیوار ہم بھی تھے
ہم نے بھی ساری عمر کیا خود کو تار تار
اپنے بدن میں کند سی تلوار ہم بھی تھے
دامن دریدہ تم ہی نہیں تھے فقط وہاں
بے آبرو کھڑے سرِ بازار ہم بھی تھے

خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ مجھے

خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ مجھے
آزاد ہو کے مجھ سے مگر کیا ملا تجھے
اک لحظہ اپنی آنکھ میں تو جھانک لے اگر
آؤں نظر میں بکھرا ہوا جا بجا تجھے
تھا مجھ کو تیرا پھینکا ہوا پھول ہی بہت
لفظوں کا اہتمام بھی کرنا پڑا تجھے

Saturday, 26 November 2016

صبا خمار تھی موسم شراب ایسا تھا

صبا خمار تھی، موسم شراب ایسا تھا
بدن کی شاخ پہ چہرہ گلاب ایسا تھا
اک اضطراب سا لفظوں کی کائنات میں تھا
تہِ خیال کہیں پیچ و تاب ایسا تھا
سحر تھی سادہ ورق، آفتاب کاتب تھا
ظہورِ عالمِ امکاں، کتاب ایسا تھا

کیا لمس تھا کہ سارا بدن جگمگا گیا

کیا لمس تھا کہ سارا بدن جگمگا گیا
پردے اٹھے، نقاب ہٹے، فاصلہ گیا
پھر ایک دن ہوا نے کہا، میں تو تھک گئی
خوشبو کا بوجھ میری کمر کو جھکا گیا
ٹھہرو کہ آئینوں پہ ابھی گرد ہے جمی
سینوں کا سارا زہر نگاہوں میں آ گیا

چلی کب ہوا کب مٹا نقش پا

سفر کا دوسرا مرحلہ

چلی کب ہوا، کب مٹا نقش پا 
کب گری ریت کی وہ ردا 
جس میں چھپتے ہوئے تُو نے مجھ سے کہا؛
آگے بڑھ، آگے بڑھتا ہی جا 
مڑ کے تکنے کا اب فائدہ؟ 

Monday, 13 April 2015

اتنے چپ چاپ کبھی رات کے تارے بھی نہ تھے

اتنے چُپ چاپ کبھی رات کے تارے بھی نہ تھے
اور یوں مُہر بہ لب زخم ہمارے بھی نہ تھے
کیسی عُجلت میں کیا اپنوں نے اقرارِ شکست
ہم ابھی پوری طرح جنگ تو ہارے بھی نہ تھے
شب کی تزئین کی خاطر ہمیں جانا ہی پڑا
شام کے کام ابھی ہم نے سنوارے بھی نہ تھے

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا
سارا بدن لہو کا رواں مشتِ پر میں تھا
جاتے کہاں کہ رات کی باہیں تھیں مشتعل
چھپتے کہاں کہ سارا جہاں اپنے گھر میں تھا
حدِ افق پہ شام تھی خیمے میں منتظر
آنسو کا اک پہاڑ سا حائل نظر میں تھا

Tuesday, 17 July 2012

صلیب سنگ پہ لکھا مرا فسانہ گیا

صلیبِ سنگ پہ لِکھا مِرا فسانہ گیا
میں رہگزر تھا مجھے روند کے زمانہ گیا
جبینِ سنگ پہ لکھا مِرا فسانہ گیا
میں رہگزر تھا مجھے روند کے زمانہ گیا
نقاب اوڑھ کے آئے تھے رات کے قزاق
پگھلتی شام سے سب دھوپ کا خزانہ گیا