اس یخ بستہ ہوا سے بر سرِ پیکار ہم بھی تھے
اپنے ہی گھر میں بے در و دیوار ہم بھی تھے
ہم نے بھی ساری عمر کیا خود کو تار تار
اپنے بدن میں کند سی تلوار ہم بھی تھے
دامن دریدہ تم ہی نہیں تھے فقط وہاں
کوہِ ندا کے سحر میں گم سارا شہر تھا
اور شہر کے فسوں میں گرفتار ہم بھی تھے
کوزوں کے ساتھ ہم بھی تھے بکھرے پڑے ہوۓ
اس شہرِ بے مثال کے آثار ہم بھی تھے
ہم سے بھی پوچھتا کوئی سرکش لہو کا راز
اپنے بدن کے مالک و مختار ہم بھی تھے
وزیر آغا
No comments:
Post a Comment