Showing posts with label اسرار ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label اسرار ہاشمی. Show all posts

Friday, 8 March 2024

شکایت کر رہا ہے دل خدا سے

 شکایت کر رہا ہے دل خدا سے 

یہی تو کام اپنا ہے سدا سے 

اسے پہچان کر پھر بھول جانا 

جسے تو مانگتا ہے انتہا سے 

کہیں پر بیچ کی دیوار بن جا

مجھے ڈر لگ رہا ہے انخلا سے 

Sunday, 11 February 2024

یہاں سے جو نکل کر بھاگنا چاہے اجازت ہے

 یہاں سے جو نکل کر بھاگنا چاہے اجازت ہے

قیامت کی ضرورت کیا یہ پل خود ہی قیامت ہے

دعا جس نے نہیں کرنی اسے بھی معاف کرنا ہے

اگر ایسا ہی ہونا یے مجھے تو پھر اجازت ہے 

ترے بندے تیری باتیں سناتے ہیں ڈراتے ہیں 

اگر تو بھی یہی سب ہے مجھے تو پھر اجازت ہے 

Monday, 5 February 2024

آخری تاوان ہے یا موت کا سامان ہے

 آخری تاوان ہے یا موت کا سامان ہے

فیصلہ ہونے کو ہے کہ خودکشی آسان ہے

نرم و خستہ ہو چلے تھے تر نوالہ ہو گیے

بن گیے پتھر کے ہم اب سنگ بھی حیران ہے 

کانچ کچومر ہوا یہ جرم میرے سر ہوا

وہ وار سہے دل نے کہ اب خود یہ پریشان یے

Saturday, 3 February 2024

رنجش کے ہر اک روگ اور الزام سے پرے

 رنجش کے ہر اک روگ اور الزام سے پرے

لے جاؤں تجھ کو دوست میں ابہام سے پرے

خوابوں کو میرے نیند یہ مٹنے نہیں دیتی

ہو جاؤں کسی طور میں آرام سے پرے

چھینے گئے ادراک سے منزل کے راستے

راستہ بنا کے دے کوئی اب گام سے پرے

Monday, 4 April 2022

ضرب جمع تفریق سے دو چار ہوا ہوں

ضرب جمع تفریق سے دو چار ہُوا ہوں

میں مریضِ عشق ہوں، بیمار ہوا ہوں

فاصلوں کی قید میں دُوری کا تقاضا کیا ہے

میں بہک گیا تھا جو گناہ گار ہوا ہوں

فرش سے وحشت میں ملی عرش سے راحت

ہاں اسی راحت کا طلبگار ہوا ہوں

Saturday, 6 November 2021

جو نشہ بھی یہاں عبوری ہے

جو نشہ بھی یہاں عبوری ہے

اس نشے میں گُناہ ضروری ہے

دیکھتا ہے خُدا کہ کیا ہو گا

جاننا اُس کا بھی ضروری ہے

بات دل کی نہیں بتاتا ہوں

معاملہ بھی بہت شعوری ہے