شکایت کر رہا ہے دل خدا سے
یہی تو کام اپنا ہے سدا سے
اسے پہچان کر پھر بھول جانا
جسے تو مانگتا ہے انتہا سے
کہیں پر بیچ کی دیوار بن جا
مجھے ڈر لگ رہا ہے انخلا سے
شکایت کر رہا ہے دل خدا سے
یہی تو کام اپنا ہے سدا سے
اسے پہچان کر پھر بھول جانا
جسے تو مانگتا ہے انتہا سے
کہیں پر بیچ کی دیوار بن جا
مجھے ڈر لگ رہا ہے انخلا سے
یہاں سے جو نکل کر بھاگنا چاہے اجازت ہے
قیامت کی ضرورت کیا یہ پل خود ہی قیامت ہے
دعا جس نے نہیں کرنی اسے بھی معاف کرنا ہے
اگر ایسا ہی ہونا یے مجھے تو پھر اجازت ہے
ترے بندے تیری باتیں سناتے ہیں ڈراتے ہیں
اگر تو بھی یہی سب ہے مجھے تو پھر اجازت ہے
آخری تاوان ہے یا موت کا سامان ہے
فیصلہ ہونے کو ہے کہ خودکشی آسان ہے
نرم و خستہ ہو چلے تھے تر نوالہ ہو گیے
بن گیے پتھر کے ہم اب سنگ بھی حیران ہے
کانچ کچومر ہوا یہ جرم میرے سر ہوا
وہ وار سہے دل نے کہ اب خود یہ پریشان یے
رنجش کے ہر اک روگ اور الزام سے پرے
لے جاؤں تجھ کو دوست میں ابہام سے پرے
خوابوں کو میرے نیند یہ مٹنے نہیں دیتی
ہو جاؤں کسی طور میں آرام سے پرے
چھینے گئے ادراک سے منزل کے راستے
راستہ بنا کے دے کوئی اب گام سے پرے
ضرب جمع تفریق سے دو چار ہُوا ہوں
میں مریضِ عشق ہوں، بیمار ہوا ہوں
فاصلوں کی قید میں دُوری کا تقاضا کیا ہے
میں بہک گیا تھا جو گناہ گار ہوا ہوں
فرش سے وحشت میں ملی عرش سے راحت
ہاں اسی راحت کا طلبگار ہوا ہوں
جو نشہ بھی یہاں عبوری ہے
اس نشے میں گُناہ ضروری ہے
دیکھتا ہے خُدا کہ کیا ہو گا
جاننا اُس کا بھی ضروری ہے
بات دل کی نہیں بتاتا ہوں
معاملہ بھی بہت شعوری ہے