ضرب جمع تفریق سے دو چار ہُوا ہوں
میں مریضِ عشق ہوں، بیمار ہوا ہوں
فاصلوں کی قید میں دُوری کا تقاضا کیا ہے
میں بہک گیا تھا جو گناہ گار ہوا ہوں
فرش سے وحشت میں ملی عرش سے راحت
ہاں اسی راحت کا طلبگار ہوا ہوں
پانیوں نے آگ ہی کی پیاس بُجھا دی آخر
میں جو کہ پیاسا تھا، آبشار ہوا ہوں
اب نہیں ڈر کوئی، نا ہی کوئی مزاحمت
خود سے بھی لڑنے کو میں تیار ہوا ہوں
آ ابھی کہہ دے جو تجھے بعد میں کہنا ہے
اب تو میں سچ سُننے کو تیار ہوا ہوں
شیخ کو اور شاہ کو تو مُلّا نے لڑایا
میں مگر کس جنگ کی پیداوار ہوا ہوں
عیب کوئی تجھ میں نہیں، بات یہ بجا ٹھہری
ہاں مگر میں کیوں اداکار ہوا ہوں؟
جسم میرا رُوح کی حقیقت کو پڑھ سکے
شاید اسی وجہ سے میں اسرار ہوا ہوں
اسرار ہاشمی
No comments:
Post a Comment