Monday, 4 April 2022

اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا

 اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا

آفتاب عشق ہے آفاق میں رکھا ہوا

زندگی کا ذائقہ مجھ کو تواتر سے ملا

زہر میں رکھا ہوا تریاق میں رکھا ہوا

نفرتوں کے سب نوشتے اس نے ازبر کر لیے

ہے محبت کا صحیفہ طاق میں رکھا ہوا

بلوۂ باطل میں حق کی خامشی کا ساتھ دو

یہ بھی نکتہ ہے مِرے میثاق میں رکھا ہوا

راکھ اڑتی دیکھ کر مجھ سے گریزاں کیوں ہوئے

ایک شعلہ ہے ابھی چقماق میں رکھا ہوا

میں نے دیکھا میرا قاتل مبتلائے خوف ہے

سر مِرا تھا جس گھڑی اطباق میں رکھا ہوا

لو نہ مدھم ہو گی منظر بجھ نہ پائے گا کبھی

یہ دیا ہے سینۂ عشاق میں رکھا ہوا


منظر نقوی

No comments:

Post a Comment