آسمانوں کی بلندی سے اتر آیا ہوں
اے زمیں مجھ کو سہارا دے میں گھر آیا ہوں
مُدتوں بعد پکارا مِری وحشت نے مجھے
مُدتوں بعد میں صحرا میں نظر آیا ہوں
دیکھ راہوں میں مِری خار بچھانے والے
میں اُدھر چھوڑ کے گُلزار اِدھر آیا ہوں
آسمانوں کی بلندی سے اتر آیا ہوں
اے زمیں مجھ کو سہارا دے میں گھر آیا ہوں
مُدتوں بعد پکارا مِری وحشت نے مجھے
مُدتوں بعد میں صحرا میں نظر آیا ہوں
دیکھ راہوں میں مِری خار بچھانے والے
میں اُدھر چھوڑ کے گُلزار اِدھر آیا ہوں
برا نہ مان کہا ہے یہ میں نے وحشت میں
مِرے سلیقہ سے میری نبھی محبت میں
نہیں ہے اس کے سوا کچھ مِری حکایت میں
خوشی کے حرف لکھے میں نے غم کی حالت میں
یہ جان کر ہوا مشغول میں تلاوت میں
بہت ہے فائدہ خوشبوؤں کی تجارت میں
اجالے ہو گئے زندہ مِری غمگین آنکھوں میں
تم آئے تو سدا کو بس گئی تسکین آنکھوں میں
لگایا کاجل عشق اس نے جب شوقین آنکھوں میں
سمٹ آئیں سبھی رنگینیاں رنگین آنکھوں میں
مہک اٹھتی ہیں جسم و جاں کی افسردہ فضائیں بھی
جب آتا ہے پرو کر وہ گل نسرین آنکھوں میں
یہ ستم بھی خوب ٹھہرا لطف فرمانے کے بعد
جلد جانے کا تقاضا دیر سے آنے کے بعد
اک قلندر سو گیا ہم کو یہ سمجھانے کے بعد
عمر کا شکوہ نہ کرنا عمر ڈھل جانے کے بعد
آج بھی اس گل بدن کو ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں
ہو گیا رخصت جو میرے دل کو مہکانے کے بعد
روشنی خوابوں کی آنکھوں میں بسائے رکھنا
رات گہری ہے بہت شمع جلائے رکھنا
اپنی شیشہ لقبی کا ہے تحفظ لازم
خود کو پتھر زدہ لہجوں سے بچائے رکھنا
تُو یہ کیا جانے کہ اس دور جفا پیشہ میں
کتنا مشکل ہے تعلق کو بنائے رکھنا