Showing posts with label شیبان قادری. Show all posts
Showing posts with label شیبان قادری. Show all posts

Wednesday, 2 August 2023

آسمانوں کی بلندی سے اتر آیا ہوں

 آسمانوں کی بلندی سے اتر آیا ہوں

اے زمیں مجھ کو سہارا دے میں گھر آیا ہوں

مُدتوں بعد پکارا مِری وحشت نے مجھے

مُدتوں بعد میں صحرا میں نظر آیا ہوں

دیکھ راہوں میں مِری خار بچھانے والے

میں اُدھر چھوڑ کے گُلزار اِدھر آیا ہوں

Friday, 2 June 2023

برا نہ مان کہا ہے یہ میں نے وحشت میں

 برا نہ مان کہا ہے یہ میں نے وحشت میں

مِرے سلیقہ سے میری نبھی محبت میں

نہیں ہے اس کے سوا کچھ مِری حکایت میں

خوشی کے حرف لکھے میں نے غم کی حالت میں

یہ جان کر ہوا مشغول میں تلاوت میں

بہت ہے فائدہ خوشبوؤں کی تجارت میں

Tuesday, 30 May 2023

اجالے ہو گئے زندہ مری غمگین آنکھوں میں

 اجالے ہو گئے زندہ مِری غمگین آنکھوں میں

تم آئے تو سدا کو بس گئی تسکین آنکھوں میں

لگایا کاجل عشق اس نے جب شوقین آنکھوں میں

سمٹ آئیں سبھی رنگینیاں رنگین آنکھوں میں

مہک اٹھتی ہیں جسم و جاں کی افسردہ فضائیں بھی

جب آتا ہے پرو کر وہ گل نسرین آنکھوں میں

Saturday, 23 April 2022

یہ ستم بھی خوب ٹھہرا لطف فرمانے کے بعد

 یہ ستم بھی خوب ٹھہرا لطف فرمانے کے بعد

جلد جانے کا تقاضا دیر سے آنے کے بعد

اک قلندر سو گیا ہم کو یہ سمجھانے کے بعد

عمر کا شکوہ نہ کرنا عمر ڈھل جانے کے بعد

آج بھی اس گل بدن کو ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں

ہو گیا رخصت جو میرے دل کو مہکانے کے بعد

Tuesday, 13 April 2021

روشنی خوابوں کی آنکھوں میں بسائے رکھنا

روشنی خوابوں کی آنکھوں میں بسائے رکھنا

 رات گہری ہے بہت شمع جلائے رکھنا

اپنی شیشہ لقبی کا ہے تحفظ لازم

خود کو پتھر زدہ لہجوں سے بچائے رکھنا

تُو یہ کیا جانے کہ اس دور جفا پیشہ میں

کتنا مشکل ہے تعلق کو بنائے رکھنا