ہر ایک رات میں اپنا حساب کر کے مجھے
سحر کو چھوڑ دیا آفتاب کر کے مجھے
مرے جنون کو پہنچا دیا ہے منزل تک
سفر کے شوق نے خانہ خراب کر کے مجھے
ذرا سی دیر میں وہ بلبلے بھی پھوٹ گئے
جنہیں وجود ملا غرق آب کر کے مجھے
ہر ایک رات میں اپنا حساب کر کے مجھے
سحر کو چھوڑ دیا آفتاب کر کے مجھے
مرے جنون کو پہنچا دیا ہے منزل تک
سفر کے شوق نے خانہ خراب کر کے مجھے
ذرا سی دیر میں وہ بلبلے بھی پھوٹ گئے
جنہیں وجود ملا غرق آب کر کے مجھے
اک نقشِ پا تھا، راہ گزر میں پڑا رہا
میں مٹ گیا، تو گردِ سفر میں پڑا رہا
وہ بھی، پڑا ہے خاک میں میرے قریب اب
تا زندگی، جو لعل و گہر میں پڑا رہا
اپنا ہی کوئی عیب تھا، جو ساری زندگی
زنجیر بن کے دستِ ہنر میں پڑا رہا
رشتوں کے جب تار الجھنے لگتے ہیں
آپس میں گھر بار الجھنے لگتے ہیں
ماضی کی آنکھوں میں جھانک کے دیکھوں تو
کچھ چہرے ہر بار الجھنے لگتے ہیں
سال میں اک ایسا موسم بھی آتا ہے
پھولوں سے ہی خار الجھنے لگتے ہیں
پھر سے کوئی منظر پس منظر سے نکالو
ڈوبے ہوئے سورج کو سمندر سے نکالو
لفظوں کا تماشا تو بہت دیکھ چکے ہم
اب شعر کوئی فکر کے محور سے نکالو
گر عشق سمجھتے ہوتو رکھ لو مجھے دل میں
سودا ہوں اگر میں تو مجھے سر سے نکالو
آب کی تاثیر میں ہوں پیاس کی شدت میں ہوں
ابر کا سایہ ہوں لیکن دشت کی وسعت میں ہوں
یوں تو اپنا لگ رہا ہے جسم کا یہ گھر مجھے
روح لیکن کہہ رہی ہے دیکھ میں غربت میں ہوں
اور تو اپنی خبر ہے سب مجھے اس کے سوا
کون ہوں کیوں ہوں کہاں ہوں اور کس حالت میں ہوں
پھر یک بیک فضاؤں میں اک چیخ سے اٹھی
پھر دُور تک فلک میں پرندے بکھر گئے
سُورج غروب ہوتے ہی منظر بدل گیا
دیوار سے اُتر کر وہ سائے بکھر گئے
ٹُوٹا ہے آج پھر کوئی ماضی کا آئینہ
حدِ نگاہ تک کئی چہرے بکھر گئے
کوئی یہ بوجھ اٹھانے کو تیار بھی تو ہو
دستار کس کو دیجئے، حقدار بھی تو ہو
مشکل نہیں ہے مجھ کو ڈرانا میرے حریف
لیکن تِری نیام میں تلوار🗡 بھی تو ہو
یہ جانتا ہوں نرغۂ دشمن میں ہوں مگر
مجھ پر کسی طرف سے کوئی وار بھی تو ہو
کوئی آساں نہیں ہے زندگی بھر دھوپ میں جلنا
شجر کے کرب کو لیکن کہاں سایہ سمجھتا ہے
ہوا کے ساتھ مِل کر لاکھ یہ آوارہ ہو جائیں
مگر ان خوشبوؤں کو پھُول تو اپنا سمجھتا ہے
تِرے پندار کی ساری حقیقت کھُل چکی، لیکن
تُو اپنے آپ کو اب بھی نہ جانے کیا سمجھتا ہے