Showing posts with label بھارت بھوشن. Show all posts
Showing posts with label بھارت بھوشن. Show all posts

Sunday, 1 May 2022

ہر ایک رات میں اپنا حساب کر کے مجھے

 ہر ایک رات میں اپنا حساب کر کے مجھے

سحر کو چھوڑ دیا آفتاب کر کے مجھے

مرے جنون کو پہنچا دیا ہے منزل تک

سفر کے شوق نے خانہ خراب کر کے مجھے

ذرا سی دیر میں وہ بلبلے بھی پھوٹ گئے

جنہیں وجود ملا غرق آب کر کے مجھے

Sunday, 12 December 2021

میں مٹ گیا تو گرد سفر میں پڑا رہا

 اک نقشِ پا تھا، راہ گزر میں پڑا رہا

میں مٹ گیا، تو گردِ سفر میں پڑا رہا

وہ بھی، پڑا ہے خاک میں میرے قریب اب

تا زندگی، جو لعل و گہر میں پڑا رہا

اپنا ہی کوئی عیب تھا، جو ساری زندگی

زنجیر بن کے دستِ ہنر میں پڑا رہا

Sunday, 16 May 2021

رشتوں کے جب تار الجھنے لگتے ہیں

 رشتوں کے جب تار الجھنے لگتے ہیں

آپس میں گھر بار الجھنے لگتے ہیں

ماضی کی آنکھوں میں جھانک کے دیکھوں تو

کچھ چہرے ہر بار الجھنے لگتے ہیں

سال میں اک ایسا موسم بھی آتا ہے

پھولوں سے ہی خار الجھنے لگتے ہیں

Thursday, 25 March 2021

پھر سے کوئی منظر پس منظر سے نکالو

 پھر سے کوئی منظر پس منظر سے نکالو

ڈوبے ہوئے سورج کو سمندر سے نکالو

لفظوں کا تماشا تو بہت دیکھ چکے ہم

اب شعر کوئی فکر کے محور سے نکالو

گر عشق سمجھتے ہوتو رکھ لو مجھے دل میں

سودا ہوں اگر میں تو مجھے سر سے نکالو

Tuesday, 23 March 2021

آب کی تاثیر میں ہوں پیاس کی شدت میں ہوں

 آب کی تاثیر میں ہوں پیاس کی شدت میں ہوں

ابر کا سایہ ہوں لیکن دشت کی وسعت میں ہوں

یوں تو اپنا لگ رہا ہے جسم کا یہ گھر مجھے

روح لیکن کہہ رہی ہے دیکھ میں غربت میں ہوں

اور تو اپنی خبر ہے سب مجھے اس کے سوا

کون ہوں کیوں ہوں کہاں ہوں اور کس حالت میں ہوں

Sunday, 21 March 2021

پھر یک بیک فضاؤں میں اک چیخ سے اٹھی

 پھر یک بیک فضاؤں میں اک چیخ سے اٹھی

پھر دُور تک فلک میں پرندے بکھر گئے

سُورج غروب ہوتے ہی منظر بدل گیا

دیوار سے اُتر کر وہ سائے بکھر گئے

ٹُوٹا ہے آج پھر کوئی ماضی کا آئینہ

حدِ نگاہ تک کئی چہرے بکھر گئے

Saturday, 20 March 2021

کوئی یہ بوجھ اٹھانے کو تیار بھی تو ہو

 کوئی یہ بوجھ اٹھانے کو تیار بھی تو ہو

دستار کس کو دیجئے، حقدار بھی تو ہو

مشکل نہیں ہے مجھ کو ڈرانا میرے حریف

لیکن تِری نیام میں تلوار🗡 بھی تو ہو

یہ جانتا ہوں نرغۂ دشمن میں ہوں مگر

مجھ پر کسی طرف سے کوئی وار بھی تو ہو

Friday, 19 March 2021

کوئی آساں نہیں ہے زندگی بھر دھوپ میں جلنا

 کوئی آساں نہیں ہے زندگی بھر دھوپ میں جلنا

شجر کے کرب کو لیکن کہاں سایہ سمجھتا ہے

ہوا کے ساتھ مِل کر لاکھ یہ آوارہ ہو جائیں

مگر ان خوشبوؤں کو پھُول تو اپنا سمجھتا ہے

تِرے پندار کی ساری حقیقت کھُل چکی، لیکن

تُو اپنے آپ کو اب بھی نہ جانے کیا سمجھتا ہے