پھر یک بیک فضاؤں میں اک چیخ سے اٹھی
پھر دُور تک فلک میں پرندے بکھر گئے
سُورج غروب ہوتے ہی منظر بدل گیا
دیوار سے اُتر کر وہ سائے بکھر گئے
ٹُوٹا ہے آج پھر کوئی ماضی کا آئینہ
حدِ نگاہ تک کئی چہرے بکھر گئے
شاید بہت طویل تھا تعبیر کا سفر
آنکھوں کے آس پاس ہی سپنے بکھر گئے
بھارت بھوشن پنت
No comments:
Post a Comment