آئینے میں روز اک تصویر سے ڈرتے رہے
آنکھ میں تنکا لیے شہتیر سے ڈرتے رہے
رقص کی خاطر اسے سازِ سلاسل کر دیا
کون کہتا ہے کہ ہم زنجیر سے ڈرتے رہے
ہاتھ کی جُنبش میں اپنے بھی ہُنر تھے کوہکن
جانِ شیریں شومئی تقدیر سےڈرتے رہے
لو چراغوں کی بُجھی تو آنکھ سے نکلا دھواں
عمر بھر پھر خواب کی تعبیر سے ڈرتے رہے
ہم بھی تھے اہلِ جنوں چاکِ گریباں کی قسم
ہائے رسوائی! تِری تشہیر سے ڈرتے رہے
شب کی تاریکی جلا کر آنکھ کی قندیل میں
صبح تک ہم رتجگے تنویر سے ڈرتے رہے
ہم نے بھی شیدا غزل کی زلف الجھائی مگر
حضرتِ غالب جنابِ میر سے ڈرتے رہے
علی شیدا
No comments:
Post a Comment