Showing posts with label رباب رشیدی. Show all posts
Showing posts with label رباب رشیدی. Show all posts

Thursday, 18 April 2024

کبھی بہار بنے اور سنور گئے ہم لوگ

 کبھی بہار بنے اور سنور گئے ہم لوگ

کبھی غبار کی صورت بکھر گئے ہم لوگ

کبھی حیات کے خورشید ماہتاب ہوئے

کبھی حیات کو تاریک کر گئے ہم لوگ

کبھی ہجوم حوادث سے بے خطر گزرے

کبھی ہواؤں کے جھونکوں سے ڈر گئے ہم لوگ

Friday, 29 December 2023

دیکھتا ہوں قافلے طیبہ سے جب آتے ہوئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دیکھتا ہوں قافلے طیبہ سے جب آتے ہُوئے

آنکھ بھر آتی ہے اکثر دل کو سمجھاتے ہوئے

کچھ تو ایسا ہے کہ ذوقِ دِید بُجھتا ہی نہیں

مِلتے ہیں زائر وہیں کی بات دُہراتے ہوئے

سیرتِ سرکارﷺ پڑھ کر ہم سے ننگِ زندگی

آئینے کے پاس سے جاتے ہیں کتراتے ہوئے

Wednesday, 27 December 2023

زباں پہ جب آئے نام سرور درود پڑھنا سلام پڑھنا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زباں پہ جب آئے نام سرورﷺ درود پڑھنا سلام پڑھنا

بھلا ہے کیا کام اس سے بڑھ کر درود پڑھنا سلام پڑھنا

لطافتوں کی فضا میں اپنی بڑے مزے سے گُزر رہی ہے

ہمیں بحکمِ خُدائے بر تر درودﷺ پڑھنا سلام پڑھنا

وہ سدرۃ المنتہیٰ پہ جا کر پلٹ کے لمحے میں آنے والے

انہیں کا ہر وقت نام لے کر درودﷺ پڑھنا سلام پڑھنا

Thursday, 21 December 2023

خدا جانتا ہے مقام محمد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے یٰسین و طہٰ جو نام محمدﷺ

خدا جانتا ہے مقامِ محمدﷺ

انہیں کا ہے مستقبل و حال و ماضی

یہ ہے رفعت و احتشامِ محمدﷺ

زمانے کو تعبیر عشرت ملے گی

جب آئے گا زیرِ نظامِ محمدﷺ

Tuesday, 19 December 2023

ختم رسل کے آنے کی تاثیر دیکھنا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ختمِ رُسلؐ کے آنے کی تاثیر دیکھنا

اب آگے آگے صبح کی تنویر دیکھنا

معراجِ شوق، نسخۂ اکسیر دیکھنا

پھر اسوۂ حضورؐ میں تفسیر دیکھنا

انسانیت کو آپﷺ نے جاوید کر دیا

انسانیت کی عظمت و توقیر دیکھنا

Monday, 18 December 2023

رابطہ فکر و عمل میں جہاں کم پاتا ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رابطہ فکر و عمل میں جہاں کم پاتا ہے

ذہن رہ رہ کے مدینے کی طرف جاتا ہے

جب بھی مہجورئ طیبہ کا خیال آتا ہے

ایک کانٹا مِرے احساس میں چُبھ جاتا ہے

آپؐ کا ذکر ہے رکھتا ہے تر و تازہ ہمیں

یہی مُستقبل تاباں کا خبر لاتا ہے

Monday, 14 August 2023

تجھ سے جب تک اس طرح اپنی شناسائی نہ تھی

 تجھ سے جب تک اس طرح اپنی شناسائی نہ تھی

اپنے گھر جیسی تو صحرا میں بھی تنہائی نہ تھی 

اب تو رشک آتا ہے خود اپنے ہی جملوں پر ہمیں

اس سے پہلے تھی مگر یہ شانِ گویائی نہ تھی 

اب مجھے کیوں اپنے مستقبل کا آتا ہے خیال

آج تک شاید مِرے ہمراہ دانائی نہ تھی