کبھی بہار بنے اور سنور گئے ہم لوگ
کبھی غبار کی صورت بکھر گئے ہم لوگ
کبھی حیات کے خورشید ماہتاب ہوئے
کبھی حیات کو تاریک کر گئے ہم لوگ
کبھی ہجوم حوادث سے بے خطر گزرے
کبھی ہواؤں کے جھونکوں سے ڈر گئے ہم لوگ
کبھی بہار بنے اور سنور گئے ہم لوگ
کبھی غبار کی صورت بکھر گئے ہم لوگ
کبھی حیات کے خورشید ماہتاب ہوئے
کبھی حیات کو تاریک کر گئے ہم لوگ
کبھی ہجوم حوادث سے بے خطر گزرے
کبھی ہواؤں کے جھونکوں سے ڈر گئے ہم لوگ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیکھتا ہوں قافلے طیبہ سے جب آتے ہُوئے
آنکھ بھر آتی ہے اکثر دل کو سمجھاتے ہوئے
کچھ تو ایسا ہے کہ ذوقِ دِید بُجھتا ہی نہیں
مِلتے ہیں زائر وہیں کی بات دُہراتے ہوئے
سیرتِ سرکارﷺ پڑھ کر ہم سے ننگِ زندگی
آئینے کے پاس سے جاتے ہیں کتراتے ہوئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زباں پہ جب آئے نام سرورﷺ درود پڑھنا سلام پڑھنا
بھلا ہے کیا کام اس سے بڑھ کر درود پڑھنا سلام پڑھنا
لطافتوں کی فضا میں اپنی بڑے مزے سے گُزر رہی ہے
ہمیں بحکمِ خُدائے بر تر درودﷺ پڑھنا سلام پڑھنا
وہ سدرۃ المنتہیٰ پہ جا کر پلٹ کے لمحے میں آنے والے
انہیں کا ہر وقت نام لے کر درودﷺ پڑھنا سلام پڑھنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے یٰسین و طہٰ جو نام محمدﷺ
خدا جانتا ہے مقامِ محمدﷺ
انہیں کا ہے مستقبل و حال و ماضی
یہ ہے رفعت و احتشامِ محمدﷺ
زمانے کو تعبیر عشرت ملے گی
جب آئے گا زیرِ نظامِ محمدﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ختمِ رُسلؐ کے آنے کی تاثیر دیکھنا
اب آگے آگے صبح کی تنویر دیکھنا
معراجِ شوق، نسخۂ اکسیر دیکھنا
پھر اسوۂ حضورؐ میں تفسیر دیکھنا
انسانیت کو آپﷺ نے جاوید کر دیا
انسانیت کی عظمت و توقیر دیکھنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رابطہ فکر و عمل میں جہاں کم پاتا ہے
ذہن رہ رہ کے مدینے کی طرف جاتا ہے
جب بھی مہجورئ طیبہ کا خیال آتا ہے
ایک کانٹا مِرے احساس میں چُبھ جاتا ہے
آپؐ کا ذکر ہے رکھتا ہے تر و تازہ ہمیں
یہی مُستقبل تاباں کا خبر لاتا ہے
تجھ سے جب تک اس طرح اپنی شناسائی نہ تھی
اپنے گھر جیسی تو صحرا میں بھی تنہائی نہ تھی
اب تو رشک آتا ہے خود اپنے ہی جملوں پر ہمیں
اس سے پہلے تھی مگر یہ شانِ گویائی نہ تھی
اب مجھے کیوں اپنے مستقبل کا آتا ہے خیال
آج تک شاید مِرے ہمراہ دانائی نہ تھی