Showing posts with label شہلا شہناز. Show all posts
Showing posts with label شہلا شہناز. Show all posts

Monday, 7 March 2022

عام سی لڑکی ہوں میں راجکماری کب ہوں

 عام سی لڑکی ہوں میں راجکماری کب ہوں

ساری دنیا کو خبر ہے کہ تمہاری کب ہوں

مستقل عشق میں پسپائی نہیں تھی میری

تازہ دم ہو کے پلٹ آئی ہوں، ہاری کب ہوں

کس لیے شب مجھے بے خواب سمجھنے لگی ہے

مجھ سے کہتی ہے کہ میں نیند کی ماری کب ہوں

Monday, 31 January 2022

کم وصل غزالوں کی طبیعت ہے مرے پاس

 کم وصل غزالوں کی طبیعت ہے مِرے پاس

زردائی ہوئی پهرتی ہوں وحشت ہے مرے پاس

میں تجھ سے بہت دور دهکیلی ہوئی کب ہوں

اپنی طرف آنے کی اجازت ہے مرے پاس

بوجهل نہیں لگتی مرے مصرعے کی شباہت

اک رنگ پئے رد ثقالت ہے مرے پاس

Wednesday, 5 January 2022

چاہتوں میں گلے نہیں ہوتے

 چاہتوں میں گِلے نہیں ہوتے

عشق میں ضابطے نہیں ہوتے 

یاد کرتے ہیں دل ہی دل میں تجھے

اب تیرے تذکرے نہیں ہوتے 

اپنے دل میں دِیے جلاؤ کہ اب 

راستوں میں دِیے نہیں ہوتے

Tuesday, 4 January 2022

طلب کے دشت میں کوئی ملال رہ گیا ہے

 طلب کے دشت میں کوئی ملال رہ گیا ہے

زقَندیں بھرتا ہوا اک غزال رہ گیا ہے

سِلے ہیں زخم مگرخون رِستا رہتا ہے

رفو گری سے مِرا اندمال رہ گیا ہے

کسی طرح سے غزل میں کمی نہیں آئے

اسے بھی نظم کرو جو خیال رہ گیا ہے

Saturday, 17 April 2021

آنکھ میں عکسِ خوش امکان بھی لا سکتی ہوں

 آنکھ میں عکسِ خوش امکان بھی لا سکتی ہوں

میں تِرے عشق پہ ایمان بھی لا سکتی ہوں

پهول اور پیڑ بہت میرا کہا مانتے ہیں

میں بیاباں میں گلستان بھی لا سکتی ہوں

تم عداوت کا بیابان جہاں دیکھتے ہو

میں وہاں پیار کا ارمان بھی لا سکتی ہوں

Thursday, 15 April 2021

ہونے کی فریاد سنائی تھی میں نے

 ہونے کی فریاد سنائی تھی میں نے

چیخی تھی آواز لگائی تھی میں نے

تھا کتنا بحران ادھر بینائی کا

پر تیری تصویر بنائی تھی میں نے

اتنے بھی حالات خراب نہیں میرے

پر جو چپاتی جو کی کھائی تھی میں نے