عام سی لڑکی ہوں میں راجکماری کب ہوں
ساری دنیا کو خبر ہے کہ تمہاری کب ہوں
مستقل عشق میں پسپائی نہیں تھی میری
تازہ دم ہو کے پلٹ آئی ہوں، ہاری کب ہوں
کس لیے شب مجھے بے خواب سمجھنے لگی ہے
مجھ سے کہتی ہے کہ میں نیند کی ماری کب ہوں
عام سی لڑکی ہوں میں راجکماری کب ہوں
ساری دنیا کو خبر ہے کہ تمہاری کب ہوں
مستقل عشق میں پسپائی نہیں تھی میری
تازہ دم ہو کے پلٹ آئی ہوں، ہاری کب ہوں
کس لیے شب مجھے بے خواب سمجھنے لگی ہے
مجھ سے کہتی ہے کہ میں نیند کی ماری کب ہوں
کم وصل غزالوں کی طبیعت ہے مِرے پاس
زردائی ہوئی پهرتی ہوں وحشت ہے مرے پاس
میں تجھ سے بہت دور دهکیلی ہوئی کب ہوں
اپنی طرف آنے کی اجازت ہے مرے پاس
بوجهل نہیں لگتی مرے مصرعے کی شباہت
اک رنگ پئے رد ثقالت ہے مرے پاس
چاہتوں میں گِلے نہیں ہوتے
عشق میں ضابطے نہیں ہوتے
یاد کرتے ہیں دل ہی دل میں تجھے
اب تیرے تذکرے نہیں ہوتے
اپنے دل میں دِیے جلاؤ کہ اب
راستوں میں دِیے نہیں ہوتے
طلب کے دشت میں کوئی ملال رہ گیا ہے
زقَندیں بھرتا ہوا اک غزال رہ گیا ہے
سِلے ہیں زخم مگرخون رِستا رہتا ہے
رفو گری سے مِرا اندمال رہ گیا ہے
کسی طرح سے غزل میں کمی نہیں آئے
اسے بھی نظم کرو جو خیال رہ گیا ہے
آنکھ میں عکسِ خوش امکان بھی لا سکتی ہوں
میں تِرے عشق پہ ایمان بھی لا سکتی ہوں
پهول اور پیڑ بہت میرا کہا مانتے ہیں
میں بیاباں میں گلستان بھی لا سکتی ہوں
تم عداوت کا بیابان جہاں دیکھتے ہو
میں وہاں پیار کا ارمان بھی لا سکتی ہوں
ہونے کی فریاد سنائی تھی میں نے
چیخی تھی آواز لگائی تھی میں نے
تھا کتنا بحران ادھر بینائی کا
پر تیری تصویر بنائی تھی میں نے
اتنے بھی حالات خراب نہیں میرے
پر جو چپاتی جو کی کھائی تھی میں نے