Wednesday, 5 January 2022

چاہتوں میں گلے نہیں ہوتے

 چاہتوں میں گِلے نہیں ہوتے

عشق میں ضابطے نہیں ہوتے 

یاد کرتے ہیں دل ہی دل میں تجھے

اب تیرے تذکرے نہیں ہوتے 

اپنے دل میں دِیے جلاؤ کہ اب 

راستوں میں دِیے نہیں ہوتے

کھو کے سب کچھ خیال آتا ہے 

کاش ہم تم ملے نہیں ہوتے 

میری قسمت وہ بن تو جائے مگر

آج کل معجزے نہیں ہوتے


شہلا شہناز

No comments:

Post a Comment