Wednesday, 5 January 2022

اٹھا خود جس سے جاتا بھی نہیں ہے

 اٹھا خود جس سے جاتا بھی نہیں ہے

خدا اس کو اٹھاتا بھی نہیں ہے

نہیں اٹھتی ہیں بے شک اس کی نظریں

مگر سر وہ جھکاتا بھی نہیں ہے

کرے گا دیکھ کر وہ آئینہ کیا

کبھی جو مسکراتا بھی نہیں ہے

ہوئی جس نام سے نفرت وہ اس کو

کتابوں سے مٹاتا بھی نہیں ہے

میں اس کا درد کلکل کیسے بانٹوں

کہ جو چھالے دکھاتا بھی نہیں ہے


راجندر کلکل

No comments:

Post a Comment