Showing posts with label راحت زاہد. Show all posts
Showing posts with label راحت زاہد. Show all posts

Saturday, 11 September 2021

وہ جب بھی مجھ سے محبت جتانے لگتا ہے

 وہ جب بھی مجھ سے محبت جتانے لگتا ہے

قسم خدا کی بہت خوف آنے لگتا ہے

میں بھول جاتی ہوں چاہت میں ہر ستم اس کا

مِرے حواس پہ وہ جب بھی چھانے لگتا ہے

سمٹتا جاتا ہے میرا وجود سنگ اس کے

وہ میری روح میں ایسے سمانے لگتا ہے

Sunday, 5 September 2021

اس طرح درد کو سینے میں چھپایا جائے

 اس طرح درد کو سینے میں چھپایا جائے

آنکھ روئے بھی تو آنسو نہ بہایا جائے

کون سنتا ہے یہاں غم کے فسانے اے دوست

لب پہ آہیں ہوں مگر جگ کو ہنسایا جائے

ہر دعا رکھتی ہے تاثیر مسیحائی کی

ہاتھ لازم ہے سلیقے سے اٹھایا جائے

Wednesday, 1 September 2021

زندگی درد کا عنوان نہ بننے دینا

 زندگی درد کا عنوان نہ بننے دینا

زخم سہنا اسے سرطان نہ بننے دینا

گو ہے دشوار بشر کے لیے انساں ہونا

نفس کو مسکنِ شیطان نہ بننے دینا

ضبط لازم ہے ہر اک گام پہ جذبوں کیلئے

موج کو بحر میں طوفان نہ بننے دینا

Tuesday, 31 August 2021

انداز گفتگو کا قرینہ نہ بھولئے

 اندازِ گفتگو کا قرینہ نہ بُھولئے

علم و ادب کا ہے یہ خزینہ نہ بھولئے

اوصاف مصطفٰیﷺ کی جو تقلید ہو اگر

پھر زندگی کو شان سے جینا نہ بھولئے

ہر سانس عارضی ہے، نہیں موت سے مگر

ہر نفس کو یہ زہر ہے پینا نہ بھولئے

Monday, 30 August 2021

ابھی ٹھہرو کہ رخصت ہونے کا لمحہ نہیں آیا

 ابھی ٹھہرو کہ رخصت ہونے کا لمحہ نہیں آیا

ابھی تو وقت کے ہاتھوں سے کچھ لمحے چرانے ہیں

ابھی کچھ زخم تازہ ہیں جو اشکوں سے بہانے ہیں

بہت سی باتیں کرنی ہیں بہت سے دکھ سنانے ہیں

ابھی ٹھہرو کہ رخصت ہونے کا لمحہ نہیں آیا

ابھی تو بادلوں کی چھاؤں میں کچھ دیر بیٹھیں گے

اک پیکر افکار ہوں اور کچھ بھی نہیں ہوں

 اک پیکرِ افکار ہوں اور کچھ بھی نہیں ہوں

میں صاحبِ کردار ہوں اور کچھ بھی نہیں ہوں

عورت ہوں مگر مرد سے کمتر بھی نہ جانو

میں ناؤ کی پتوار ہوں اور کچھ بھی نہیں ہوں

اجداد کی شفقت و رفاقت میں پلی ہوں

شیریں دم گفتار ہوں اور کچھ بھی نہیں ہوں

Sunday, 29 August 2021

رہ حیات کے رنج و الم مجھے دے دو

 رہِ حیات کے رنج و الم مجھے دے دو

تم اپنی روح کے سب سوز و غم مجھے دے دو

میں بن کے پیار کا ساگر سمیٹ لوں گی انہیں

جو آنسوؤں سے ہو پُر چشمِ نم مجھے دے دو

دُکھوں کو آؤ ذرا بانٹنے کی بات کریں

تمہاری جاں پہ جو گزرے ستم مجھے دے دو