وہ جب بھی مجھ سے محبت جتانے لگتا ہے
قسم خدا کی بہت خوف آنے لگتا ہے
میں بھول جاتی ہوں چاہت میں ہر ستم اس کا
مِرے حواس پہ وہ جب بھی چھانے لگتا ہے
سمٹتا جاتا ہے میرا وجود سنگ اس کے
وہ میری روح میں ایسے سمانے لگتا ہے
وہ جب بھی مجھ سے محبت جتانے لگتا ہے
قسم خدا کی بہت خوف آنے لگتا ہے
میں بھول جاتی ہوں چاہت میں ہر ستم اس کا
مِرے حواس پہ وہ جب بھی چھانے لگتا ہے
سمٹتا جاتا ہے میرا وجود سنگ اس کے
وہ میری روح میں ایسے سمانے لگتا ہے
اس طرح درد کو سینے میں چھپایا جائے
آنکھ روئے بھی تو آنسو نہ بہایا جائے
کون سنتا ہے یہاں غم کے فسانے اے دوست
لب پہ آہیں ہوں مگر جگ کو ہنسایا جائے
ہر دعا رکھتی ہے تاثیر مسیحائی کی
ہاتھ لازم ہے سلیقے سے اٹھایا جائے
زندگی درد کا عنوان نہ بننے دینا
زخم سہنا اسے سرطان نہ بننے دینا
گو ہے دشوار بشر کے لیے انساں ہونا
نفس کو مسکنِ شیطان نہ بننے دینا
ضبط لازم ہے ہر اک گام پہ جذبوں کیلئے
موج کو بحر میں طوفان نہ بننے دینا
اندازِ گفتگو کا قرینہ نہ بُھولئے
علم و ادب کا ہے یہ خزینہ نہ بھولئے
اوصاف مصطفٰیﷺ کی جو تقلید ہو اگر
پھر زندگی کو شان سے جینا نہ بھولئے
ہر سانس عارضی ہے، نہیں موت سے مگر
ہر نفس کو یہ زہر ہے پینا نہ بھولئے
ابھی ٹھہرو کہ رخصت ہونے کا لمحہ نہیں آیا
ابھی تو وقت کے ہاتھوں سے کچھ لمحے چرانے ہیں
ابھی کچھ زخم تازہ ہیں جو اشکوں سے بہانے ہیں
بہت سی باتیں کرنی ہیں بہت سے دکھ سنانے ہیں
ابھی ٹھہرو کہ رخصت ہونے کا لمحہ نہیں آیا
ابھی تو بادلوں کی چھاؤں میں کچھ دیر بیٹھیں گے
اک پیکرِ افکار ہوں اور کچھ بھی نہیں ہوں
میں صاحبِ کردار ہوں اور کچھ بھی نہیں ہوں
عورت ہوں مگر مرد سے کمتر بھی نہ جانو
میں ناؤ کی پتوار ہوں اور کچھ بھی نہیں ہوں
اجداد کی شفقت و رفاقت میں پلی ہوں
شیریں دم گفتار ہوں اور کچھ بھی نہیں ہوں
رہِ حیات کے رنج و الم مجھے دے دو
تم اپنی روح کے سب سوز و غم مجھے دے دو
میں بن کے پیار کا ساگر سمیٹ لوں گی انہیں
جو آنسوؤں سے ہو پُر چشمِ نم مجھے دے دو
دُکھوں کو آؤ ذرا بانٹنے کی بات کریں
تمہاری جاں پہ جو گزرے ستم مجھے دے دو