اس طرح درد کو سینے میں چھپایا جائے
آنکھ روئے بھی تو آنسو نہ بہایا جائے
کون سنتا ہے یہاں غم کے فسانے اے دوست
لب پہ آہیں ہوں مگر جگ کو ہنسایا جائے
ہر دعا رکھتی ہے تاثیر مسیحائی کی
ہاتھ لازم ہے سلیقے سے اٹھایا جائے
کیوں نہ طوفان اٹھیں ایسی فضاؤں میں
جہاں طفل کے ہاتھ میں بارود تھمایا جائے
کوئی کہہ دے تو ذرا وقت کے شیطانوں سے
ظلم انسان پہ اب اور نہ ڈھایا جائے
ہم تلاطم میں بھی پا لیتے ہیں اکثر راحت
بے ضرر موجوں سے ہم کو نہ ڈرایا جائے
راحت زاہد
No comments:
Post a Comment