Sunday, 5 September 2021

مرے اندر بھی جوہر کم نہیں ہے

 مِرے اندر بھی جوہر کم نہیں ہے

مِری خو میں تو لیکن ہم نہیں ہے

پرائی روشنی لے کر کروں کیا

چراغ اپنا ابھی مدھم نہیں ہے

گرے ہیں جو مِری آنکھوں سے موتی

وہ آنسو ہے کوئی شبنم نہیں ہے

سنا ہے تیرے بازو ہیں توانا

ہمارا حوصلہ بھی کم نہیں ہے

چلو اچھا ہوا یہ جان کر بھی

مِری چاہت سے وہ برہم نہیں ہے

قیامت تک رہے گی قوم زندہ

مٹا دے کوئی اس میں دم نہیں ہے

میں تنہا ہی گزارا کر رہا کررہا ہوں

یہاں میرا کوئی ہمدم نہیں ہے

چھڑکتا ہے مِرے زخموں پہ اکثر

نمک ہے وہ میاں مرہم نہیں ہے

زباں خاموشیوں کی جانتا ہوں

کہانی اتنی بھی مبہم نہیں ہے

پلٹ سکتا ہوں اک سجدے سے قسمت

نہ کہنا مجھ میں اتنا دم نہیں ہے

سمجھتا ہے زمانے کی روش وہ

نظر قیصر کی بھی کچھ کم نہیں ہے


امتیاز قیصر

No comments:

Post a Comment