Showing posts with label زاہد بخاری. Show all posts
Showing posts with label زاہد بخاری. Show all posts

Thursday, 25 July 2024

حقیقت آشنائی مصطفیٰ کے گھر سے ملتی ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حقیقت آشنائی مصطفیٰؐ کے گھر سے ملتی ہے

علیؑ و فاطمؑہ،۔ شبیرؑ و شبرؑ سے ملتی ہے

نہیں اندیشہ اس کشتی کو جس کے ناخدا یہ ہیں

بڑے آرام سے ساحل پہ وہ لنگر سے ملتی ہے

علیؑ ہیں ساتھ حق کے اور علیؑ کے ساتھ حق یارو

خبر اس کی ہمیں فرمانِ پیغمبرﷺ سے ملتی ہے

Tuesday, 22 March 2022

جو شخص تری راہگزر تک نہیں پہنچا

 جو شخص تِری راہ گزر تک نہیں پہنچا

ہاتھ اس کا مقاصد کے گہر تک نہیں پہنچا

دراصل محبت کے نگر تک نہیں پہنچا

وہ جس کا تصور تِرے در تک نہیں پہنچا

یزداں کو سمجھنا تو بڑی بات ہے صاحب

ادراک ابھی اپنا بشر تک نہیں پہنچا

Thursday, 10 March 2022

ابن زہرا کے جسے غم سے شناسائی نہیں

 عارفانہ کلام منقبت سلام


ابنِ زہراؑ کے جسے غم سے شناسائی نہیں

اس بشر نے خلد کی خوشبو تلک پائی نہیں

جام کوثر سے رہا محروم، تشنہ رہ گیا

ساقئ کوثر کے ہاں جس کی پذیرائی نہیں

پنجتنؑ سے ہے محبت عقلمندی کی دلیل

آدمی پاگل ہے وہ ان کا جو سودائی نہیں

Tuesday, 8 March 2022

نفرت کی باس عام نہ کرنا جناب جی

 نفرت کی باس عام نہ کرنا جناب جی

خوشبو کی طرح ہر سُو بکھرنا جناب جی

خود کو بچا کے رکھنا ہے بادِ سمُوم سے

تازہ گُلاب بن کے نکھرنا جناب جی

شکوہ کناں ہے باغ میں پہلے ہی عندلیب

اب اور کوئی گُل نہ کترنا جناب جی

Sunday, 6 March 2022

کر کے بہت سے رندوں کو تنہا چلی گئی

 کر کے بہت سے رندوں کو تنہا چلی گئی

مے خانہ بند ہو گیا، صہبا چلی گئی

جس میں تھے پھول تتلیاں مہتاب و کہکشاں

حیراں ہوں وہ کہاں میری دنیا چلی گئی

جس میں نشاں عہدِ کُہن تھے چھپے ہوئے

شاہد وہ ریت اب پسِ دریا چلی گئی

Tuesday, 22 February 2022

نظر جو آیا کسی کا شباب شیشے میں

 نظر جو آیا کسی کا شباب شیشے میں

لگا کچھ ایسے کہ ہے ماہتاب شیشے میں

مہِ منیر کی رونق بھی ماند پڑنے لگی

جو رخ سے الٹا کسی نے نقاب شیشے میں

حیا کی سرخی ہے چھائی سنہری عارض پر

کہ رکھ دیا ہے کسی نے گلاب شیشے میں

Monday, 21 February 2022

ہے کاروان شوق بہاروں کے سامنے

 ہے کاروانِ شوق بہاروں کے سامنے

اترا ہے قافلہ یہ نظاروں کے سامنے

یا رب مِرے چمن کی، فضائے چمن کی خیر

مہکے ہوئے ہیں پھول شراروں کے سامنے

آیا وہ خوش جمال سرِ بزم اس طرح

نکلا ہو جیسے چاند ستاروں کے سامنے