عارفانہ کلام منقبت سلام
ابنِ زہراؑ کے جسے غم سے شناسائی نہیں
اس بشر نے خلد کی خوشبو تلک پائی نہیں
جام کوثر سے رہا محروم، تشنہ رہ گیا
ساقئ کوثر کے ہاں جس کی پذیرائی نہیں
پنجتنؑ سے ہے محبت عقلمندی کی دلیل
آدمی پاگل ہے وہ ان کا جو سودائی نہیں
ہے بہت حیران کن بنت علیؑ کا حوصلہ
شام کے بازار میں جا کر بھی گھبرائی نہیں
دشمن اسلام کرتا ہی رہا بیعت طلب
لیکن اس ملعون کی امید بر آئی نہیں
تا قیامت داخل دشنام ہے نام یزید
تا قیامت اس کی ہو گی کم یہ رسوائی نہیں
واسطے میرے ہے کافی دولتِ حب علیؑ
دولتِ دنیا کا زاہد میں تمنائی نہیں
زاہد بخاری
No comments:
Post a Comment