آئینہ گرد سے اٹا ہوا تھا
آنکھ کا درد بھی گھٹا ہوا تھا
رات بھی دھند کا شکارہوئی
خواب بھی راہ سے ہٹا ہوا تھا
سلسلہ تجھ سے تھا مرا اور میں
ساری دنیا سے ہی کٹا ہوا تھا
داستاں اس پہ تھی مقدر کی
زیست کا جو ورق پھٹا ہوا تھا
سب کے دامن بھرے ہوئے تھے وہاں
درد خیرات میں بٹا ہوا تھا
پیڑ طوفاں کا زور سہہ نہ سکا
ایک پتہ مگر ڈٹا ہوا تھا
بھولنے کا سوال کیا طاہر
میں نے اک شخص کو رٹا ہوا تھا
مجموعہ کلام گونگی ہجرت
طاہر حنفی
No comments:
Post a Comment