Thursday, 10 March 2022

آئینہ گرد سے اٹا ہوا تھا

 آئینہ گرد سے اٹا ہوا تھا

آنکھ کا درد بھی گھٹا ہوا تھا

رات بھی دھند کا شکارہوئی

خواب بھی راہ سے ہٹا ہوا تھا

سلسلہ تجھ سے تھا مرا اور میں

ساری دنیا سے ہی کٹا ہوا تھا

داستاں اس پہ تھی مقدر کی

زیست کا جو ورق پھٹا ہوا تھا

سب کے دامن بھرے ہوئے تھے وہاں

درد خیرات میں بٹا ہوا تھا

پیڑ طوفاں کا زور سہہ نہ سکا

ایک پتہ مگر ڈٹا ہوا تھا

بھولنے کا سوال کیا طاہر

میں نے اک شخص کو رٹا ہوا تھا

مجموعہ کلام گونگی ہجرت


طاہر حنفی 

No comments:

Post a Comment