میں ایک شفاف آئینہ ہوں
کہ جس سے ٹکرا کے ساری کرنیں پلٹ رہی ہیں
تمام رنگوں کی اصلیت کا گواہ ہوں میں
کہ ہر حقیقت
مِری نگاہوں سے معتبر ہے
مگر وہ چہرہ
میں ایک شفاف آئینہ ہوں
کہ جس سے ٹکرا کے ساری کرنیں پلٹ رہی ہیں
تمام رنگوں کی اصلیت کا گواہ ہوں میں
کہ ہر حقیقت
مِری نگاہوں سے معتبر ہے
مگر وہ چہرہ
خود آگہی بھی عجیب شے ہے
میں تم سے کٹ کر
تمام دنیا سے کٹ گیا ہوں
خود اپنے اندر سمٹ گیا ہوں
تمہارے اور میرے درمیاں جو بھی فاصلہ ہے
وہ اک گواہی ہے قُربتوں کی
کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے
کچھ برگ سبز وقت سے پہلے ہی جھڑ گئے
کچھ آندھیاں بھی اپنی معاون سفر میں تھیں
تھک کر پڑاؤ ڈالا تو خیمے اکھڑ گئے
اب کے مری شکست میں ان کا بھی ہاتھ ہے
وہ تیر جو کمان کے پنجے میں گڑ گئے
تُو میرا ہے
تیرے من میں چھُپے ہوئے سب دُکھ میرے ہیں
تیری آنکھ کے آنسُو میرے
تیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میری
تُو میرا ہے
ہر وہ جھونکا