Showing posts with label آنس معین. Show all posts
Showing posts with label آنس معین. Show all posts

Monday, 14 August 2023

میں ایک شفاف آئینہ ہوں

 میں ایک شفاف آئینہ ہوں

کہ جس سے ٹکرا کے ساری کرنیں پلٹ رہی ہیں

تمام رنگوں کی اصلیت کا گواہ ہوں میں

کہ ہر حقیقت

مِری نگاہوں سے معتبر ہے

مگر وہ چہرہ

Friday, 11 August 2023

میں تم سے کٹ کر تمام دنیا سے کٹ گیا ہوں

 خود آگہی بھی عجیب شے ہے

میں تم سے کٹ کر

تمام دنیا سے کٹ گیا ہوں

خود اپنے اندر سمٹ گیا ہوں

تمہارے اور میرے درمیاں جو بھی فاصلہ ہے

وہ اک گواہی ہے قُربتوں کی

Friday, 21 May 2021

کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے

 کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے

کچھ برگ سبز وقت سے پہلے ہی جھڑ گئے

کچھ آندھیاں بھی اپنی معاون سفر میں تھیں

تھک کر پڑاؤ ڈالا تو خیمے اکھڑ گئے

اب کے مری شکست میں ان کا بھی ہاتھ ہے

وہ تیر جو کمان کے پنجے میں گڑ گئے

Monday, 17 May 2021

تو میرا ہے تیرے من میں چھپے ہوئے سب دکھ میرے ہیں

 تُو میرا ہے

تیرے من میں چھُپے ہوئے سب دُکھ میرے ہیں

تیری آنکھ کے آنسُو میرے

تیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میری

تُو میرا ہے

ہر وہ جھونکا

Monday, 4 September 2017

یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہو گا

یہ اور بات کہ رنگِ بہار کم ہو گا 
نئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہو گا
تعلقات میں آئی ہے بس یہ تبدیلی 
ملیں گے اب بھی مگر انتظار کم ہو گا
میں سوچتا رہا کل رات بیٹھ کر تنہا 
کہ اس ہجوم میں میرا شمار کم ہو گا

Saturday, 10 December 2016

دانشور کہلانے والو تم کیا سمجھو

دانشور کہلانے والو
تم کیا سمجھو
مبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں
تھل کے ریگستان مِیں رہنے والے لوگو
تم کیا جانو
ساون کیا ہے

عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہوا

عجب تلاشِ مسلسل کا اختتام ہوا
حصولِ رزق ہوا بھی تو زیرِ دام ہوا
ہر ایک شہر کا معیار مختلف دیکھا
کہیں پہ سر کہیں پگڑی کا احترام ہوا
ذرا سی عمر عداوت کی لمبی فہرستیں
عجیب قرض وراثت میں میرے نام ہوا

ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے

ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کِیا ہے
تمہاری یادوں کے ساتھ تنہا سفر کیا ہے
سنا ہے اس رُت کو دیکھ کر تم بھی رو پڑے تھے
سنا ہے بارش نے سنگ دل پر اثر کیا ہے
گھٹن بڑھی ہے تو پھر اسی کو صدائیں دی ہیں
کہ جس ہوا نے ہر اک شجر بے ثمر کیا ہے

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے
دریا کے اس پار بھی گہرا سناٹا ہے
شور تھمے تو شاید صدیاں بیت چکی ہیں
اب تک لیکن سہما سہما سناٹا ہے
کس سے بولوں یہ تو اک صحرا ہے جہاں پر
میں ہوں یا پھر گونگا بہرا سناٹا ہے

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے
بیٹھے بیٹھے ندی کنارے ڈوب گیا ہے
آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہو گی
آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا ہے
وہ جو پیاسا لگتا تھا، سیلاب زدہ تھا
پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے

Friday, 21 August 2015

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے

جیون کو دکھ، دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے
بچے لیکن سوئے ہوئے تھے، کس سے کہانی کہتے
سچ کہنے کا حوصلہ تم نے چھین لیا ہے، ورنہ
شہر میں پھیلی ویرانی کو سب ویرانی کہتے
وقت گزرتا جاتا اور یہ زخم ہرے رہتے، تو
بڑی حفاظت سے رکھی ہے، تیری نشانی کہتے

ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور

ہو جائے گی جب تم سے شناسائی، ذرا اور
بڑھ جائے گی شاید مری تنہائی، ذرا اور
کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار
اے کاش! کہ ہوتی مری گہرائی، ذرا اور
پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گِن نہ سکو گے
یہ الجھی ہوئی ڈور، جو سلجھائی ذرا اور

یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور

یہ قرض تو میرا ہے، چکائے گا کوئی اور
دکھ مجھ کو ہے اور اشک بہائے گا کوئی اور
کیا پھر یونہی دی جائے گی اجرت پہ گواہی
کیا تیری سزا اب کے بھی پائے گا کوئی اور
انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور

وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی

وہ میرے حال پہ رویا بھی، مسکرایا بھی
عجیب شخص ہے، اپنا بھی ہے، پرایا بھی
یہ انتظار، سحر کا تھا، یا تمہارا تھا
دِیا جلایا بھی میں نے، دِیا بجھایا بھی
میں چاہتا ہوں ٹھہر جائے چشمِ دریا میں
لرزتا عکس تمہارا بھی، میرا سایا بھی

اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں

اک کربِ مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں
مقتل میں ہیں، جینے کی دعا دیں تو کسے دیں
پتھر ہیں سبھی لوگ، کریں بات تو کس سے
اس شہرِ خموشاں میں صدا دیں تو کسے دیں
ہے کون کہ جو خود کو ہی جلتا ہوئے دیکھے
سب ہاتھ ہیں کاغذ کے، دِیا دیں تو کسے دیں