Saturday, 10 December 2016

دانشور کہلانے والو تم کیا سمجھو

دانشور کہلانے والو
تم کیا سمجھو
مبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں
تھل کے ریگستان مِیں رہنے والے لوگو
تم کیا جانو
ساون کیا ہے

اپنے بدن کو
رات میں اندھی تاریکی سے
دن میں خود اپنے ہاتھوں سے
ڈھانپنے والو
عریاں لوگو
تم کیا جانو
چولی کیا ہے، دامن کیا ہے
شہر بدر ہو جانے والو
فٹ پاتھوں پر سونے والو
تم کیا سمجھو
چھت کیا ہے، دیواریں کیا ہیں
آنگن کیا ہے
اک لڑکی کا خزاں رسیدہ بازو تھامے
نبض کے اوپر ہاتھ جمائے
ایک صدا پر کان لگائے
دھڑکن، سانسیں گننے والو
تم کیا جانو
مبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں
دھڑکن کیا ہے، جیون کیا ہے
سترہ نمبر کے بستر پر
اپنی قید کا لمحہ لمحہ گننے والی
یہ لڑکی جو
برسوں کی بیمار نظر آتی ہے تم کو
سولہ سال کی اک بیوہ ہے
ہنستے ہنستے رو پڑتی ہے
اندر تک بھیگ چکی ہے
جان چکی ہے
ساون کیا ہے
اس سے پوچھو
کانچ کا برتن کیا ہوتا ہے
کچا بندھن کیا ہوتا ہے
چولی، دامن کیا ہوتا ہے
اس سے پوچھو
مبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں
سُونا آنگن، تنہا جیون کیا ہوتا ہے

آنس معین بلے

No comments:

Post a Comment