گناہ عشق میں اس بات کی تسکین ہوتی ہے
ہوا ہو جرم گہرا تو سزا سنگین ہوتی ہے
کھلے رکھتے ہو دروازے دریچے بارہا تم کیوں
سنو دنیا تماشوں کی بڑی شوقین ہوتی ہے
سفر میں دھوپ ہے تو کیا اداسی اوڑھ لو گے تم
ملے سائے جو تھے ان کی بڑی توہین ہوتی ہے
گناہ عشق میں اس بات کی تسکین ہوتی ہے
ہوا ہو جرم گہرا تو سزا سنگین ہوتی ہے
کھلے رکھتے ہو دروازے دریچے بارہا تم کیوں
سنو دنیا تماشوں کی بڑی شوقین ہوتی ہے
سفر میں دھوپ ہے تو کیا اداسی اوڑھ لو گے تم
ملے سائے جو تھے ان کی بڑی توہین ہوتی ہے
کسی کے عشق میں دل بیقرار کون کرے
وہی گناہ بتا بار بار کون کرے؟
اگر سفر میں سکوں ہے کسی مسافر کو
کہیں ٹھہر کے سکوں تار تار کون کرے
فریبیوں میں پریشاں ہے سب کے سب رشتے
یہاں وفاؤں پہ اب اعتبار کون کرے؟
کسی کے صُبح کی مُسکان ہونا
اندھیرے گھر میں روشندان ہونا
کہوں میں کیا تمہیں اس سے زیادہ
مِرے بچو! مِری پہچان ہونا
سفر آسان میرا کر گیا ہے
تمہارا ساتھ اس دوران ہونا
وہی تیور وہی لہجہ ابھی تک
میرا قاتل نہیں بدلہ ابھی تک
نگاہوں میں وہی جادو ہے قائم
ہمیں ہے جان کا خطرہ ابھی تک
ہمارے بیچ میں شکوے گلے ہیں
یہ رشتہ ہے تبھی گہرا ابھی تک