Showing posts with label جوشش عظیم آبادی. Show all posts
Showing posts with label جوشش عظیم آبادی. Show all posts

Friday, 23 September 2022

یار کے تیر کا نشانہ ہوں

 یار کے تیر کا نشانہ ہوں

اپنے طالع کا میں دِوانا ہوں

ناتوانی بھی دیکھ کر مجھ کو

لگی رونے، میں وہ توانا ہوں

دیکھ دیکھ اس کی زلفِ ابتر کو

دل یہی چاہتا ہے، شانہ ہوں

Tuesday, 6 September 2022

جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوں

 جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوں

برنگِ شمع سراپا وبال اپنا ہوں

اس اشکِ سرخ و رُخِ زرد سے سمجھ لے تو

بیان کیا کروں خود عرضِ حال اپنا ہوں

قرار پکڑے مِرے دل میں کب کسی کی شکل

برنگِ آئینہ محوِ جمال اپنا ہوں

Sunday, 28 August 2022

اٹھ گئے یاں سے اپنے ہمدم تو

 اٹھ گئے یاں سے اپنے ہمدم تو

ہاتھ ملتے ہی رہ گئے ہم تو

یار آیا ہے، دیکھ لوں اس کو

اے اجل! دم لے تو کوئی دم تو

مونسِ تازہ ہیں یہ درد و الم

مُدتوں کا رفیق ہے غم تو

Saturday, 27 August 2022

شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہے

 شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہے

وہ کنشتِ دل ہی میں موجود ہے

میرے جلنے کی کسی کو کیا خبر

سوزشِ دل آتش بے دُود ہے

نے حرم سے کام ہے نے دیر سے

خانۂ دل ہی مِرا مسجود ہے

Tuesday, 17 November 2020

چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیں

 چشم خونخوار ابروئے خمدار دونوں ایک ہیں

ہیں جدا لیکن بوقت کار دونوں ایک ہیں

باعث آرام یہ، نَے موجبِ آزار وہ

چشم وحدت میں ہی گل اور خار دونوں ایک ہیں

التیام زخم دل کے حق میں گر کیجے نگاہ

سبزۂ خط مرہم زنگار دونوں ایک ہیں

Wednesday, 11 November 2020

گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کا

 گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کا

پر یہ سودائے محبت ہے نہیں جانے کا

مست رکھ یاد میں اس چشم کی تا روز جزا

منہ نہ دکھلا مجھے یارب کسی مے خانے کا

میرے دل کو بھی نہ ہووے ہوس بوسہ اگر

آشنا لب سے ترے لب نہ ہو پیمانے کا