یار کے تیر کا نشانہ ہوں
اپنے طالع کا میں دِوانا ہوں
ناتوانی بھی دیکھ کر مجھ کو
لگی رونے، میں وہ توانا ہوں
دیکھ دیکھ اس کی زلفِ ابتر کو
دل یہی چاہتا ہے، شانہ ہوں
یار کے تیر کا نشانہ ہوں
اپنے طالع کا میں دِوانا ہوں
ناتوانی بھی دیکھ کر مجھ کو
لگی رونے، میں وہ توانا ہوں
دیکھ دیکھ اس کی زلفِ ابتر کو
دل یہی چاہتا ہے، شانہ ہوں
جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوں
برنگِ شمع سراپا وبال اپنا ہوں
اس اشکِ سرخ و رُخِ زرد سے سمجھ لے تو
بیان کیا کروں خود عرضِ حال اپنا ہوں
قرار پکڑے مِرے دل میں کب کسی کی شکل
برنگِ آئینہ محوِ جمال اپنا ہوں
اٹھ گئے یاں سے اپنے ہمدم تو
ہاتھ ملتے ہی رہ گئے ہم تو
یار آیا ہے، دیکھ لوں اس کو
اے اجل! دم لے تو کوئی دم تو
مونسِ تازہ ہیں یہ درد و الم
مُدتوں کا رفیق ہے غم تو
شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہے
وہ کنشتِ دل ہی میں موجود ہے
میرے جلنے کی کسی کو کیا خبر
سوزشِ دل آتش بے دُود ہے
نے حرم سے کام ہے نے دیر سے
خانۂ دل ہی مِرا مسجود ہے
چشم خونخوار ابروئے خمدار دونوں ایک ہیں
ہیں جدا لیکن بوقت کار دونوں ایک ہیں
باعث آرام یہ، نَے موجبِ آزار وہ
چشم وحدت میں ہی گل اور خار دونوں ایک ہیں
التیام زخم دل کے حق میں گر کیجے نگاہ
سبزۂ خط مرہم زنگار دونوں ایک ہیں
گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کا
پر یہ سودائے محبت ہے نہیں جانے کا
مست رکھ یاد میں اس چشم کی تا روز جزا
منہ نہ دکھلا مجھے یارب کسی مے خانے کا
میرے دل کو بھی نہ ہووے ہوس بوسہ اگر
آشنا لب سے ترے لب نہ ہو پیمانے کا