Wednesday, 11 November 2020

گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کا

 گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کا

پر یہ سودائے محبت ہے نہیں جانے کا

مست رکھ یاد میں اس چشم کی تا روز جزا

منہ نہ دکھلا مجھے یارب کسی مے خانے کا

میرے دل کو بھی نہ ہووے ہوس بوسہ اگر

آشنا لب سے ترے لب نہ ہو پیمانے کا

حسن اور عشق کا مذکور نہ ہووے جب تک

مجھ کو بھاتا نہیں سننا کسی افسانے کا

کیوں نہ مضطر ہوں اسے دیکھ کے دیکھو تو سہی

شمع کے سامنے کیا حال ہے پروانے کا

ہاتھ اٹھتا نہیں اے یار جو سلجھانے سے

دل تری زلف سے الجھا ہے مگر شانے کا

گو کہ مر جائے ترے عشق میں جوشؔش لیکن

شکوۂ جور و جفا منہ پہ نہیں لانے کا


جوشش عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment