Wednesday, 11 November 2020

دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا

 دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا

زیر فانوس بدن شمع ہے جوبن ان کا

دید ان کی ہے وصال ان کا تصور ان کا

جان ان کی ہے جگر ان کا ہے تن من ان کا

ہیں وہ کاشانۂ دل میں کبھی آنکھوں میں کبھی

خانہ تن ہے مرا گھر بھی اور آنگن ان کا

ہے تصور جو انہیں کا تو وہ ہیں پیش نگاہ

ہو خیال ان کے سوا گر تو ہے رہزن ان کا

ہیں تمہیں میں وہ تم اپنے کو تو دیکھو ہو کون

جن کو کہتے ہو کہ ہے عرش پہ مسکن ان کا

جان ان کی ہے ہر اک جان کہاں پر وہ نہیں

دونوں عالم میں یہی رمز ہے مزمن ان کا

بیٹھے بیٹھے وہ کیا کرتے ہیں ہر گل پہ نظر

دل عاشق ہے مگر سیر کا گلشن ان کا

وہ ہمارے ہیں ہم ان کے ہیں انہیں کا یہ ظہور

جان ان کی ہے یہی جان بھی تن من ان کا

آ کے گھر میں مرے مرداںؔ نہ وہ جانے پائیں

تا قیامت نہ چھٹے ہاتھ سے دامن ان کا


مردان صفی

No comments:

Post a Comment