Showing posts with label حسن ناصر. Show all posts
Showing posts with label حسن ناصر. Show all posts

Wednesday, 21 January 2026

زمیں کی گود میں ڈالی امانتیں کیا کیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زمیں کی گود میں ڈالی امانتیں کیا کیا

حسینؑ لائے وفا کی شہادتیں کیا کیا

وہ بات خون سے لکھی نئے حوالوں سے

ابھر کے سامنے آئیں علامتیں کیا کیا

کہیں پہ پرتوِ حیدرؑ، کہیں پہ شکلِ نبیٌ

دکھائی دیتی ہیں صحرا میں صورتیں کیا کیا

Saturday, 5 February 2022

رسم دیوانگی نبھانے لگے

 رسمِ دیوانگی نبھانے لگے

اب تو پتھر اِدھر بھی آنے لگے

نشۂ درد جب اُترنے لگا

زخم کچھ اور مُسکرانے لگے

اُس کی آوارگی پہ بات چلی

سارے الزام مجھ پہ آنے لگے

Saturday, 6 February 2021

الجھی ہوئی سوچوں کی گرہیں کھولتے رہنا

 الجھی ہوئی سوچوں کی گرہیں کھولتے رہنا

اچھا ہے مگر ان میں لہو گھولتے رہنا

دن بھر کسی منظر کے تعاقب میں بھٹکنا

اور شام کو لفظوں کے نگیں رولتے رہنا

میں لمحہ محفوظ نہیں رک نہ سکوں گا

اڑنا ہے مِرے سنگ تو پَر تولتے رہنا

ڈائری میں لکھ کے میرے تذکرے رکھ چھوڑنا

 ڈائری میں لکھ کے میرے تذکرے رکھ چھوڑنا

پھر کبھی ان پر لگا کر حاشیے رکھ چھوڑنا

یاد کی البم سجا کر گوشۂ دل میں کہیں

کام آئیں گے وفا کے سلسلے رکھ چھوڑنا

یہ بھی کیا پہلے دکھا کر منزلوں کے راستے

پھر دلوں کے درمیاں کچھ فاصلے رکھ چھوڑنا

Thursday, 4 February 2021

منظر میں اگر کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا

 منظر میں اگر کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا

کوئی بھی تِرے حق میں صفائی نہیں دے گا

وہ چاند جو اترا ہے کسی اور کے گھر میں

مجھ کو تو اندھیروں سے رہائی نہیں دے گا

خود اپنی زبانوں سے لہو چاٹنے والو

 ظالم تو ستم کر کے دُہائی نہیں دے گا

Saturday, 30 January 2021

کھلے دلوں سے ملے فاصلہ بھی رکھتے رہے

 کھلے دلوں سے ملے فاصلہ بھی رکھتے رہے

تمام عمر عجب لوگ مجھ سے الجھے رہے

حنوط تِتلیاں شو کیس میں نظر آئیں

شریر بچے گھروں میں بھی سہمے سہمے رہے

اب آئینہ بھی مزاجوں کی بات کرتا ہے

بکھر گئے ہیں وہ چہرے جو عکس بنتے رہے

Friday, 29 January 2021

دشت میں گونجتی مانوس صدا ہے کوئی

 دشت میں گونجتی مانوس صدا ہے کوئی

ایک مدت سے مجھے ڈھونڈ رہا ہے کوئی

ایک یلغار ہے اب شہر میں آوازوں کی

بات کرنے کا چلن بھول گیا ہے کوئی

فاصلہ ایک قدم بھی نہیں طے ہو پاتا

درمیاں دونوں کے دیوارِ انا ہے کوئی