عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زمیں کی گود میں ڈالی امانتیں کیا کیا
حسینؑ لائے وفا کی شہادتیں کیا کیا
وہ بات خون سے لکھی نئے حوالوں سے
ابھر کے سامنے آئیں علامتیں کیا کیا
کہیں پہ پرتوِ حیدرؑ، کہیں پہ شکلِ نبیٌ
دکھائی دیتی ہیں صحرا میں صورتیں کیا کیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زمیں کی گود میں ڈالی امانتیں کیا کیا
حسینؑ لائے وفا کی شہادتیں کیا کیا
وہ بات خون سے لکھی نئے حوالوں سے
ابھر کے سامنے آئیں علامتیں کیا کیا
کہیں پہ پرتوِ حیدرؑ، کہیں پہ شکلِ نبیٌ
دکھائی دیتی ہیں صحرا میں صورتیں کیا کیا
رسمِ دیوانگی نبھانے لگے
اب تو پتھر اِدھر بھی آنے لگے
نشۂ درد جب اُترنے لگا
زخم کچھ اور مُسکرانے لگے
اُس کی آوارگی پہ بات چلی
سارے الزام مجھ پہ آنے لگے
الجھی ہوئی سوچوں کی گرہیں کھولتے رہنا
اچھا ہے مگر ان میں لہو گھولتے رہنا
دن بھر کسی منظر کے تعاقب میں بھٹکنا
اور شام کو لفظوں کے نگیں رولتے رہنا
میں لمحہ محفوظ نہیں رک نہ سکوں گا
اڑنا ہے مِرے سنگ تو پَر تولتے رہنا
ڈائری میں لکھ کے میرے تذکرے رکھ چھوڑنا
پھر کبھی ان پر لگا کر حاشیے رکھ چھوڑنا
یاد کی البم سجا کر گوشۂ دل میں کہیں
کام آئیں گے وفا کے سلسلے رکھ چھوڑنا
یہ بھی کیا پہلے دکھا کر منزلوں کے راستے
پھر دلوں کے درمیاں کچھ فاصلے رکھ چھوڑنا
منظر میں اگر کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا
کوئی بھی تِرے حق میں صفائی نہیں دے گا
وہ چاند جو اترا ہے کسی اور کے گھر میں
مجھ کو تو اندھیروں سے رہائی نہیں دے گا
خود اپنی زبانوں سے لہو چاٹنے والو
ظالم تو ستم کر کے دُہائی نہیں دے گا
کھلے دلوں سے ملے فاصلہ بھی رکھتے رہے
تمام عمر عجب لوگ مجھ سے الجھے رہے
حنوط تِتلیاں شو کیس میں نظر آئیں
شریر بچے گھروں میں بھی سہمے سہمے رہے
اب آئینہ بھی مزاجوں کی بات کرتا ہے
بکھر گئے ہیں وہ چہرے جو عکس بنتے رہے
دشت میں گونجتی مانوس صدا ہے کوئی
ایک مدت سے مجھے ڈھونڈ رہا ہے کوئی
ایک یلغار ہے اب شہر میں آوازوں کی
بات کرنے کا چلن بھول گیا ہے کوئی
فاصلہ ایک قدم بھی نہیں طے ہو پاتا
درمیاں دونوں کے دیوارِ انا ہے کوئی