Saturday, 6 February 2021

ڈائری میں لکھ کے میرے تذکرے رکھ چھوڑنا

 ڈائری میں لکھ کے میرے تذکرے رکھ چھوڑنا

پھر کبھی ان پر لگا کر حاشیے رکھ چھوڑنا

یاد کی البم سجا کر گوشۂ دل میں کہیں

کام آئیں گے وفا کے سلسلے رکھ چھوڑنا

یہ بھی کیا پہلے دکھا کر منزلوں کے راستے

پھر دلوں کے درمیاں کچھ فاصلے رکھ چھوڑنا

کیا خبر کب لوٹ آئیں اجنبی دیسوں سے وہ

پیڑ پر محفوظ ان کے گھونسلے رکھ چھوڑنا

درد کے رستے حسن ناصر رواں رہتے تو ہیں

ہر قدم پر تم مگر روشن دِیے رکھ چھوڑنا


حسن ناصر

No comments:

Post a Comment