Saturday, 6 February 2021

موسمِ گل ہے ہوا عطر فشاں ہے ساقی

 موسمِ گل ہے، ہوا عطر فِشاں ہے ساقی

دیکھ گلزار پہ جنت کا  گماں ہے ساقی

آج فطرت نے گلستاں میں الٹ دی ہے نقاب

اوج پر قسمتِ صاحب نظراں ہے ساقی

وہ گھٹا جھوم کے اٹھی، وہ جوانی برسی

آج دنیا کی ہر اک چیز جواں  ہے ساقی

دیکھ کس شان سے میخانے کی جانب ہیں رواں

دیدنی سرخوشئ بادہ کشاں ہے ساقی

لا پلا بادۂ گلگوں کہ غنیمت ہے یہ وقت

یہ جہاں  ورنہ جہانِ گزراں ہے  ساقی

شیخ کی ہرزہ سرائی کی نہ کچھ کر پرواہ

اس کی فردوس بس اک وہم و گماں ہے ساقی

اس کے اوہام کی تردید تو دشوار نہیں

بحث کا ہم کو مگر وقت کہاں ہے ساقی

اس کو حوروں کے تصور کے مزے لینے دے

اس کے اس شغل میں کیا اپنا زیاں ہے ساقی

اِس کے اک قطرے پہ ہیں کوثر و تسنیم نثار

ترے ہاتھوں میں جو یہ رطلِ گراں ہے ساقی

ایسے موسم میں حماقت ہے تمنّائے بہشت

یہ زمیں غیرتِ گلزارِ جِناں ہے ساقی


گوپال متل

No comments:

Post a Comment