Showing posts with label قابل اجمیری. Show all posts
Showing posts with label قابل اجمیری. Show all posts

Tuesday, 23 August 2022

خیال سود نہ اندیشۂ زیاں ہے ابھی

 خیال سود نہ اندیشۂ زیاں ہے ابھی

چلے چلو کہ مذاقِ سفر جواں ہے ابھی

ہمارے نقشِ قدم سے چمک اٹھے شاید

فضائے منزلِ جاناں دھواں دھواں ہے ابھی

نئے نئے ہیں عزائم نئی نئی ہے تلاش

جمالِ دوست سے دل مطمئن کہاں ہے ابھی

Wednesday, 1 July 2020

حوادث ہمسفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا

حوادث ہم سفر اپنے، تلاطم ہم عناں اپنا
زمانہ لوٹ سکتا ہے، تو لوٹے کارواں اپنا
نسیمِ صبح سے کیا ٹوٹتا خوابِ گراں اپنا
کوئی نادان بجلی چھو گئی ہے آشیاں اپنا
ہمیں بھی دیکھ لو، آثارِ منزل دیکھنے والو
کبھی ہم نے بھی دیکھا تھا غبارِ کارواں اپنا

سوز حیات مانگ غم جاودانہ مانگ

سوزِ حیات مانگ، غمِ جاودانہ مانگ
اس جانِ مدعا سے مگر مدعا نہ مانگ
آوازِ بازگشت بھی مشکل سے آئے گی
غربت کو شرمسار نہ کر "ہمنوا" نہ مانگ
خونِ جگر سے "نقشِ تمنا" بنائے جا
اب زندگی سے فرصتِ ترکِ وفا نہ مانگ

Sunday, 1 January 2017

وارفتگیِ شوق فسوں کار نہ ہو جائے

وارفتگئ شوق فسوں کار نہ ہو جائے
جلوؤں کو سنبھلنا کہیں دشوار نہ ہو جائے
رہبر جو ہمیں ٹھوکریں کھانے نہیں دیتا 
ڈرتا ہے کہیں راستہ ہموار نہ ہو جائے
مۓ خانہ بھی اک کارگہِ شیشہ گری ہے 
پیمانہ کہیں ٹوٹ کے تلوار نہ ہو جائے

طلب کی اگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے

طلب کی اگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے 
خیال ہو کہ نظر، آرزو سے روشن ہے
جنم جنم کے اندھیروں کو دے رہا ہے شکست 
وہ اک چراغ کہ اپنے لہو سے روشن ہے
کہیں ہجومِ حوادث میں کھو کے رہ جاتا
جمالِ یار مِری جستجو سے روشن ہے

قربان اپنی لغزش مستانہ وار کے

قربان اپنی لغزشِ مستانہ وار کے 
سائے قریب آ گئے دیوارِ یار کے
میرے جنوں کو زندگئ مستعار کے 
دو دن بھی قبول ہیں مگر اختیار کے
اے آفتابِ صبحِ بہاراں! سلام کر
دیوانے آ رہے ہیں شبِ غم گزار کے

Saturday, 12 November 2016

دن پریشاں ہے رات بھاری ہے

دن پریشاں ہے، رات بھاری ہے
زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے
دل کی دھڑکن کا اعتبار نہیں
ورنہ، آواز تو تمہاری ہے
اس کے حسنِ ستم کا کیا کہنا
لوگ سمجھے خطا ہماری ہے

دل سے بھی شرمسار ہوئے کوئے یار میں

دل سے بھی شرمسار ہوئے کُوئے یار میں
ہم جا کے اور خوار ہوئے کوئے یار میں
دنیاۓ رنگ و بو میں یہ راحت کہاں نصیب 
شعلوں سے ہمکنار ہوئے کوئے یار میں
کیف و نشاط حسرتِ دیدار اب کہاں 
جلوے بھی ناگوار ہوئے کوئے یار میں

بہت نازک طبیعت ہو گئی ہے

بہت نازک طبیعت ہو گئی ہے
کسی سے کیا محبت ہو گئی ہے
نہیں ہوتی کہیں صَرفِ تماشا
نظر تیری امانت ہو گئی ہے
کہاں اب سلسلے دار و رسن کے
محبت بھی ندامت ہو گئی ہے

Wednesday, 5 October 2016

سر جھکاتے نہیں کٹاتے ہیں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

سر جھکاتے نہیں کٹاتے ہیں
حق کا رستہ ہمیں دکھاتے ہیں
یہ ہے احسان آلِ احمدﷺ کا
کہ لہو سے دِیے جلاتے ہیں
ایسے مرنے کی کی ہمیں تلقین
ایسے جینا ہمیں سکھاتے ہیں

نئے چراغ لئے شام بے کسی آئی

نئے چراغ لیے شامِ بے کسی آئی
کہ دل بجھا تو ستاروں میں روشنی آئی
جنونِ شوق نے پہنچا دیا کہاں مجھ کو
نگاہِ دوست بھی اکثر تھکی تھکی آئی
ہمارے پاس کہاں آنسوؤں کی سوغاتیں
کسی کو اپنا بنا کے بڑی ہنسی آئی

تڑپتی کوندتی ہر چیز قابل دل نہیں ہوتی

تڑپتی کوندتی ہر چیز قابل دل نہیں ہوتی
حرارت کرمکِ شب تاب سے حاصل نہیں ہوتی
کچھ ایسا مطمئن ہوں اپنی ناکامیٔ پیہم سے
کہ جیسے رہروِ غم کی کوئی منزل نہیں ہوتی
شکستِ جام پر مۓ خانہ سارا گونج اٹھتا ہے
مگر حیرت ہے، آوازِ شکستِ دل نہیں ہوتی

Sunday, 25 September 2016

عمر بھر ہو نہ سکی جرأت فریاد مجھے

عمر بھر ہو نہ سکی جرأتِ فریاد مجھے
کس سلیقے سے کِیا آپ نے برباد مجھے
ماضی و حال ہم آغوش ہوئے جاتے ہیں
دیکھنا، کس نے پکارا دل ناشاد! مجھے
آؤ! اب، ایک نئے دور کا آغاز کریں
عہدِ رفتہ کی کوئی بات نہیں یاد مجھے

مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں

مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں
اب تیری یاد کے حوالے ہیں
زندگی کے حسین چہرے پر
غم نے کتنے حجاب ڈالے ہیں
کچھ غم زیست کے شکار ہوئے
کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں

عام فیضان غم نہیں ہوتا

عام فیضانِ غم نہیں ہوتا
ہر نفس محترم نہیں ہوتا
یا محبت میں غم نہیں ہوتا
یا مِرا شوق کم نہیں ہوتا
نامرادی نے کر دیا خوددار
اب سرِ شوق خم نہیں ہوتا

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں
اشک بہہ جاتے ہیں، لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں
پھر کوئی کمبخت کشتی نذرِ طوفان ہو گئی
ورنہ ساحل پر اداسی اس قدر ہوتی نہیں
تیرا اندازِ تغافل ہے، جنوں میں آج کل
چاک کر لیتا ہوں دامن اور خبر ہوتی نہیں

Sunday, 19 April 2015

کبھی مقتل کے مقابل کبھی زندان کے قریب

کبھی مقتل کے مقابل کبھی زِندان کے قریب
ہم بہر حال رہے منزلِ جاناں کے قریب
جھِلملاتے ہوئے تاروں نے بھی دَم توڑ دیا
آخرِ شب ہے چلے آؤ رگِ جان کے قریب
سینہ چاکانِ چمن آج ادھر سے گزرے
پھول ہی پھول نظر آتے ہیں زِندان کے قریب

غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھی

غم چھیڑتا ہے سازِ رگِ جاں کبھی کبھی
ہوتی ہے کائنات غزل خواں کبھی کبھی
ہم نے دیئے ہیں عشق کو تیور نئے نئے
ان سے بھی ہو گئی ہیں گریزاں کبھی کبھی
اس حسنِ اتفاق کی تصویر کھینچ لو
ہوتے ہیں ایک ساحل و طوفاں کبھی کبھی

Sunday, 6 July 2014

ترے دیار میں ہم سر جھکائے پھرتے ہیں

تِرے دیار میں ہم سر جھکائے پھرتے ہیں 
نگاہِ ناز کے احسان اٹھائے پھرتے ہیں 
کسی کی زُلف پریشان، کسی کا دامن چاک 
جنون کو لوگ تماشا بنائے پھرتے ہیں 
قدم قدم پہ لیا انتقام دنیا نے 
تجھ ہی کو جیسے گلے سے لگائے پھرتے ہیں 

دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہو گا

دلِ دیوانہ عرضِ حال پر مائل تو کیا ہو گا
مگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حالِ دل تو کیا ہو گا
ہمارا کیا، ہمیں تو ڈوبنا ہے، ڈوب جائیں گے
مگر، طوفان جا پہنچا لبِ ساحل تو کیا ہو گا
زرابِ ناب ہی سے ہوش اڑ جاتے ہیں انساں کے
تِرا کیفِ نظر بھی ہو گیا شامل تو کیا ہو گا