عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
توصیف تیری خامۂ جدت سے لکھوں گا
میں تیرا سراپا نئی صورت سے لکھوں گا
ہے ذات تریﷺ علمِ الٰہی کا مدینہ
اس شہر کو میں بابِ فضیلت سے لکھوں گا
اُجلا ہے فرشتوں سے ترے نور کا پیکر
اس منظرِ مہتاب کو حیرت سے لکھوں گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
توصیف تیری خامۂ جدت سے لکھوں گا
میں تیرا سراپا نئی صورت سے لکھوں گا
ہے ذات تریﷺ علمِ الٰہی کا مدینہ
اس شہر کو میں بابِ فضیلت سے لکھوں گا
اُجلا ہے فرشتوں سے ترے نور کا پیکر
اس منظرِ مہتاب کو حیرت سے لکھوں گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سَیلِ گفتارِ محمدﷺ زمزم و مُشک و گُلاب
اور وہ لب ہائے گویا، روشنی، خُوشبو، حِنا
کاروانِ نور و نکہت ان کے سانسوں کی مہک
اور وہ کومل سا مُکھڑا، روشنی، خُوشبو، حنا
ذاتِ ختمِ المرسلینﷺ خُورشید، عنبر، تازگی
حیدرؑ و حسنینؑ و زہراؑ، روشنی، خُوشبو، حنا
کیا ہنستا ہنساتا شہر یارو
حاسد کا نصیب ہو گیا ہے
ہر دوست ہے میرے خوں کا پیاسا
ہر دوست رقیب ہو گیا ہے
ہر آنکھ کی ظلمتوں سے یاری
ہر ذہن مہیب ہو گیا ہے