Showing posts with label سیف زلفی. Show all posts
Showing posts with label سیف زلفی. Show all posts

Thursday, 30 May 2024

توصیف تیری خامہ جدت سے لکھوں گا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


توصیف تیری خامۂ جدت سے لکھوں گا

میں تیرا سراپا نئی صورت سے لکھوں گا

ہے ذات تریﷺ علمِ الٰہی کا مدینہ

اس شہر کو میں بابِ فضیلت سے لکھوں گا

اُجلا ہے فرشتوں سے ترے نور کا پیکر

اس منظرِ مہتاب کو حیرت سے لکھوں گا

Tuesday, 1 August 2023

سیل گفتار محمد زمزم و مشک و گلاب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


سَیلِ گفتارِ محمدﷺ زمزم و مُشک و گُلاب

اور وہ لب ہائے گویا، روشنی، خُوشبو، حِنا

کاروانِ نور و نکہت ان کے سانسوں کی مہک

اور وہ کومل سا مُکھڑا، روشنی، خُوشبو، حنا

ذاتِ ختمِ المرسلینﷺ خُورشید، عنبر، تازگی

حیدرؑ و حسنینؑ و زہراؑ، روشنی، خُوشبو، حنا

Monday, 11 April 2022

کیا ہنستا ہنساتا شہر یارو حاسد کا نصیب ہو گیا ہے

 کیا ہنستا ہنساتا شہر یارو 

حاسد کا نصیب ہو گیا ہے 

ہر دوست ہے میرے خوں کا پیاسا 

ہر دوست رقیب ہو گیا ہے 

ہر آنکھ کی ظلمتوں سے یاری 

ہر ذہن مہیب ہو گیا ہے 

Wednesday, 12 August 2020

لہجے کا رنگ لفظ کی خوشبو بھی دیکھ لے

لہجے کا رنگ لفظ کی خوشبو بھی دیکھ لے
آ مجھ سے کر کلام، مجھے تُو بھی دیکھ لے
میں چودھویں کا چاند🌕 سمندر تِرا بدن
میری کشش کا بولتا جادو بھی دیکھ لے
کھلتا ہوں تیرے رخ کی سجل چاندنی کے پاس
پہچان لے مجھے مِری خوشبو بھی دیکھ لے

سائے جو سنگ راہ تھے رستے سے ہٹ گئے

سائے جو سنگِ راہ تھے رستے سے ہٹ گئے
دل جل اٹھا تو خود ہی اندھیرے سمٹ گئے
دن بھر جلے جو دھوپ کے بستر پہ دوستو
سورج چھپا تو چادرِ شب میں سمٹ گئے
وہ کرب تھا کہ دل کا لہو آنچ دے اٹھا
ایسی ہوا چلی کہ گریبان پھٹ گئے

Tuesday, 20 December 2016

ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم

ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم

ملی نغمہ

یہ چاند تارے کا جھلملاتا پرچم
ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم
یہ پرچموں میں عظیم پرچم
عطائے ربِ کریم پرچم، ہمارا پرچم

صندل جیسی بانہیں اس کی تن پھولوں کی ڈال

صندل جیسی بانہیں اس کی تن پھولوں کی ڈال 
انگ انگ اس کا جلتا دیپک، مُکھ چاندی کا تھال
قدم قدم جوبن مہکاتی،۔ پھول کھِلاتی جائے 
بہتی ندیا کو شرمائے،۔ مست پون سی چال
میٹھی میٹھی باتیں اس کی، بھینی بھینی باس 
مصری جیسے ہونٹ رسیلے، ریشم جیسے بال

سینے کی آگ آتش محشر ہو جس طرح

سینے کی آگ آتشِ محشر ہو جس طرح 
یوں موجزن ہے غم کہ سمندر ہو جس طرح
بادل کا شور، ہانپتے پیڑوں کی بے بسی
یوں دیکھتا ہوں میرے ہی اندر ہو جس طرح
اڑتے ہوئے غبار میں آنکھوں کا دشت بھی
کچھ یوں لگا کہ خشک سمندر ہو جس طرح

Friday, 4 December 2015

پیاسوں کی سرزمین پہ ستم بھی ہے قہر بھی

پیاسوں کی سرزمین پہ ستم بھی ہے قہر بھی
چھائے کبھی گھٹا تو برستا ہے زہر بھی
سینے میں چاند کے بھی نہیں روشنی کی لہر
تاریکیوں کی جھیل میں ڈوبا ہے شہر بھی
جھلسا رہا ہے پیڑ کا سایہ بھی جسم کو
لپٹی ہوئی ہے ریت کی چادر میں نہر بھی

ارض و سما سے پوچھ کہ میں ہوں کہاں کہاں

ارض و سما سے پوچھ کہ میں ہوں کہاں کہاں
جاگا ہے میری سوچ کا افسوں کہاں کہاں
آئینۂ شفق سے رخِ ماہتاب تک
ہے جنتِ نگاہ مِرا خوں کہاں کہاں
دھرتی پہ جابجا ہیں اجالے کے گھاؤ سے
مارا ہے ماہتاب نے شبخوں کہاں کہاں

Thursday, 3 December 2015

کیوں جل بجھے کہیں تو گرفتار بولتے

کیوں جل بجھے کہیں تو گرفتار بولتے
زِنداں میں چپ رہے تو سرِ دار بولتے
گھر گھر یہاں تھا گوش بر آواز دیر سے
آتی صدا تو سب در و دیوار بولتے
ہوتا تمہارے خون کا دریا جو موجزن
طوفاں سمندروں میں بیک بار بولتے

اتنے دکھی ہیں ہم کہ مسرت بھی غم بنے

اتنے دکھی ہیں ہم کہ مسرت بھی غم بنے
امرت ہمارے ہونٹوں سے مَس ہو تو سَم بنے
روئے برنگِ ابر فرشتے بھی گوندھ کر
کس دشتِ اشک و آہ کی مٹی سے ہم بنے
کچھ اور بھی تو شیش محل راستے میں تھے
کیوں ہم فقط نشانۂ سنگِ ستم بنے

اوڑھی ردائے درد بھی حالات کی طرح

اوڑھی ردائے درد بھی حالات کی طرح
تاریکیوں میں ڈوب گئے رات کی طرح
شیوہ نہیں کہ شعلۂ غم سے کریں گریز
ہر زخم ہے قبول نئی بات کی طرح
نیند آ رہی ہے کرب کی آغوش میں مجھے
سینے پہ دستِ غم ہے تِرے ہات کی طرح

اب کیا گلہ کریں کہ مقدر میں کچھ نہ تھا

اب کیا گِلہ کریں کہ مقدر میں کچھ نہ تھا
ہم غوطہ زن ہوئے تو سمندر میں کچھ نہ تھا
دیوانہ کر گئی تِری تصویر کی کشش
چوما جو پاس جا کے تو پیکر میں کچھ نہ تھا
اپنے لہو کی آگ ہمیں چاٹتی رہی
اپنے بدن کا زہر تھا ساغر میں کچھ نہ تھا

Sunday, 8 December 2013

کوفے کے قریب ہو گیا ہے

کوفے کے قریب ہو گیا ہے
لاہور عجیب ہو گیا ہے
ہر دوست ہے میرے خوں کا پیاسا
ہر دوست رقیب ہو گیا ہے
ہر آنکھ کی ظلمتوں سے یاری
ہر ذہن مہیب ہو گیا ہے