Thursday, 3 December 2015

کیوں جل بجھے کہیں تو گرفتار بولتے

کیوں جل بجھے کہیں تو گرفتار بولتے
زِنداں میں چپ رہے تو سرِ دار بولتے
گھر گھر یہاں تھا گوش بر آواز دیر سے
آتی صدا تو سب در و دیوار بولتے
ہوتا تمہارے خون کا دریا جو موجزن
طوفاں سمندروں میں بیک بار بولتے
دیتا تمہارا نطق دہائی تو فطرتاً
لوح و قلم کے بام سے فنکار بولتے
تم بولتے اگر تو تمہاری ندا کے ساتھ
بستی کے سارے کوچہ و بازار بولتے
اب خلوتوں میں شور مچانے کا فائدہ
تھا حوصلہ تو بر سرِ دربار بولتے
دستِ خزاں تھا خانہ بر انداز جس گھڑی
کیوں گنگ تھے چمن کے پرستار بولتے
سورج نے کتنے جسم جلائے ہیں راہ میں
اتنا تو زیر سایۂ دیوار بولتے
لاتا وفا کی جنس جو بازار میں کوئی
بولی بقدرِ ظرف خریدار بولتے
زلفیؔ کلی کلی میں مچلتا نیا لہو
آتا وہ سیلِ رنگ کہ گلزار بولتے

سیف زلفی

No comments:

Post a Comment