اتنے دکھی ہیں ہم کہ مسرت بھی غم بنے
امرت ہمارے ہونٹوں سے مَس ہو تو سَم بنے
روئے برنگِ ابر فرشتے بھی گوندھ کر
کس دشتِ اشک و آہ کی مٹی سے ہم بنے
کچھ اور بھی تو شیش محل راستے میں تھے
آنکھوں کے سامنے ہے شکستہ درِ سکوں
ہم تک رہے ہیں دیر سے تصویرِ غم بنے
برسے ہیں دشتِ زیست میں ہم پر وہ سنگ و خشت
یک جا سمٹ کے آئیں تو کوہِ الم بنے
لہجے کے بانکپن میں چھپاتے ہیں دل کا سوز
ہم ایسے رکھ رکھاؤ کے فنکار کم بنے
جو داستاں مٹائی، زیادہ لکھی گئی
جتنے ہمارے ہاتھ تراشے، قلم بنے
زلفیؔ وہ سرزمیں کہ جہاں دفن ہے شکیبؔ
وہ کیوں نہ اہلِ فن کے لیے محترم بنے
سیف زلفی
No comments:
Post a Comment