Showing posts with label تبسم انوار. Show all posts
Showing posts with label تبسم انوار. Show all posts

Monday, 24 April 2023

ان کے اوصاف ہوں کس طرح سے بیاں

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ان کے اوصاف ہوں کس طرح سے بیاں کس طرح میں لکھوں مدحتِ مصطفٰیؐ

خاتم المرسلیںﷺ وہ ہیں شاہِ زماں سب سے اونچی یہاں عظمتِ مصطفٰیؐ

رات دن کا مجھے ہوش کیا رہے طیبہ جان کو یہ دل مچلتا رہے

سبز گنبد نگاہوں میں چھایا رہے جب سے دل میں بسی الفت مصطفٰیؐ

سارے عالم کے مختار ہیں آپؐ ہی سارے نبیوں کے سردار ہیں آپؐ ہی

اپنی اُمت کے غم خوار ہیں آپؐ ہی سارے جگ پہ عیاں شوکتِ مصطفٰیؐ

Monday, 31 January 2022

نہ مشورہ نہ کوئی لی صلاح کر ڈالا

 نہ مشورہ نہ کوئی لی صلاح کر ڈالا

کہ میں نے کارجنوں خواہ مخواہ کر ڈالا

جو پائے یار پہ سجدہ ادا ہوا سو ہوا

ثواب مجھ سے ہوا یا گناہ، کر ڈالا

وہ جس کے ہجر نے تعمیر کر دیا تھا مجھے

اسی کے وصل نے مجھ کو تباہ کر ڈالا

Saturday, 4 December 2021

کیا عجب نسخہ اکسیر لیے آیا ہے

کیا عجب نسخۂ اکسیر لیے آیا ہے

غم، مسیحائی کی تاثیر لیے آیا ہے

میں نے جو خواب مکمل ابھی دیکھا بھی نہیں

کون اس خواب کی تعبیر لیے آیا ہے؟

دشتِ رُسوائی سے کیسا یہ تعلق نکلا

جو مِرے واسطے توقیر لیے آیا ہے

Saturday, 26 June 2021

آنکھوں میں لے کے یاس مجھے دیکھنے تو دے

 آنکھوں میں لے کے یاس مجھے دیکھنے تو دے

کون آ رہا ہے پاس مجھے دیکھنے تو دے

دیکھے گا کون خاک میں جوہر چھپے ہوئے

اے شہرِ ناشناس مجھے دیکھنے تو دے

میں ڈوب تو رہی ہوں مگر جانبِ کنار

جب تک بندھی ہے آس مجھے دیکھنے تو دے

Friday, 28 May 2021

وہ کم آمیز مجھ سے ہم سخن ہونے لگا ہے

 وہ کم آمیز مجھ سے ہم سخن ہونے لگا ہے

بہ یک لحظہ یہ دشتِ دل چمن ہونے لگا ہے

سہولت سے وہ پڑھتا جا رہا ہے ذہن میرا

بدن سوچوں کا پھر بے پیرہن ہونے لگا ہے

مِری تنہائی اور وحشت میں پھر سےٹھن گئی ہے

یوں لگتا ہے کوئی گھمساں کا رن ہونے لگا ہے

Thursday, 27 May 2021

کسی بھی در کی سوالی نہیں رہی ہو گی

 کسی بھی در کی سوالی نہیں رہی ہو گی

جھکی جو عشق کے در پر جبیں رہی ہو گی

وگرنہ ترکِ وفا سہل اس قدر تھا کہاں

کمی مجھی میں یقیناً کہیں رہی ہو گی

جو گورِ عقل میں کی دفن آرزو تم نے

تمہارے دل میں کبھی جا گزیں رہی ہو گی

یہ چیخیں یہ آہ و بکا کس لیے ہے

 یہ چیخیں یہ آہ و بکا کس لیے ہے

مِرے شہر کی یہ فضا کس لیے ہے

بتا زندہ در گور ہے آدمی کیوں

بتا آسماں پر خدا کس لیے ہے

ہیں مسئلے ہوئے شاخ در شاخ گل کیوں

چمن در چمن سانحہ کس لیے ہے

Wednesday, 26 May 2021

وصال یار کی سبھی ادائیں خوشنما سہی

 حوصلہ 


وصالِ یار کی سبھی ادائیں خوشنما سہی

رِدائے لُطف کی سبھی صدائیں خوشنما سہی

مگر مجھے عزیز ہے ثباتِ غم کی سلوٹیں

جو رات بھر جگاتی ہیں وہ روگِ جاں کی لذتیں

انہیں سے میں نے سیکھا ہے

Tuesday, 25 May 2021

مدام لے کے مجھے حلقہ وار ناچتی ہے

 مدام لے کے مجھے حلقہ وار ناچتی ہے

جدھر چلوں نگہِ طرحدار ناچتی ہے

ملا ہے وعدۂ فردا بجائے نقد وصال

ہماری روح کو دیکھو اُدھار ناچتی ہے

یہ کس نظر نے طلسمِ خزاں کو کاٹ دیا

پلک جھپکتے میں ہر سُو بہار ناچتی ہے