اب کہاں عہد نبھانے والے
کھو گئے دوست پرانے والے
نم ہوئے دیدے فقط پل بھر کو
کب رہے اشک بہانے والے
کون جانے کہ کہاں رہتے ہیں
اب وہ روداد سنانے والے
اب کہاں عہد نبھانے والے
کھو گئے دوست پرانے والے
نم ہوئے دیدے فقط پل بھر کو
کب رہے اشک بہانے والے
کون جانے کہ کہاں رہتے ہیں
اب وہ روداد سنانے والے
چشمِ قاتل کی جو مد ہے، حد ہے
ایک عالم پہ ہی زد ہے، حد ہے
تیری آنکھوں سے جو پی لی ساقی
ہوش باقی نہ خرد ہے، حد ہے
دل کہے چاند اتاروں نیچے
ایک نادان سی کد ہے، حد ہے
وہی ہے ریت پانی بھی وہی ہے
سمندر کی روانی بھی وہی ہے
وہی ناکامئ حسرت کا رونا
عبث کی کامرانی بھی وہی ہے
وہی دستور جنگل ہے یہاں پر
نظام حکمرانی بھی وہی ہے
دیکھتے دیکھتے، دیکھتے رہ گئے
مسکراتے ہوئے ہر ستم سہہ گئے
بات ہی بات میں بات نکلی تھی یوں
جو نہ کہنا تھا ہم وہ سبھی کہہ گئے
روکتے روکتے روک پائے نہ ہم
بہتے بہتے یونہی اشک پھر بہہ گئے
کتنے حیران ہو گئے صاحب
کیوں پریشان ہو گئے صاحب
کل جو آباد تھے نگر سارے
آج ویران ہو گئے صاحب
دشمنِ جاں جو تھے کبھی میرے
دل کے مہمان ہو گئے صاحب
غم خانۂ حیات نے جینے نہیں دیا
چند ایک معجزات نے مرنے نہیں دیا
شامِ فراق وصلِ غمِ جاں کے چاک کو
ان کی نوازشات نے سِینے نہیں دیا
خوشبو بہت عزیز تھی جس کو گلوں کے پاس
موسم کی واردات نے ٹکنے نہیں دیا
اہلِ جہاں کے بیچ میں اپنی انا تراش
دستِ ہنر سے اپنے نیا نا خدا تراش
ہے درمیان اپنے مسافت بہت طویل
تدبیر کر جدید کوئی راستہ تراش
ایمان رب سے مانگ ہنر علم حلم بھی
امن و امان و صدق و صفا و سخا تراش