Showing posts with label امجد غزالی. Show all posts
Showing posts with label امجد غزالی. Show all posts

Monday, 21 March 2022

اب کہاں عہد نبھانے والے کھو گئے دوست پرانے والے

 اب کہاں عہد نبھانے والے

کھو گئے دوست پرانے والے

نم ہوئے دیدے فقط پل بھر کو

کب رہے اشک بہانے والے

کون جانے کہ کہاں رہتے ہیں

اب وہ روداد سنانے والے

Thursday, 10 March 2022

چشم قاتل کی جو مد ہے حد ہے

 چشمِ قاتل کی جو مد ہے، حد ہے

ایک عالم پہ ہی زد ہے، حد ہے

تیری آنکھوں سے جو پی لی ساقی

ہوش باقی نہ خرد ہے، حد ہے

دل کہے چاند اتاروں نیچے

ایک نادان سی کد ہے، حد ہے

Wednesday, 9 March 2022

وہی ہے ریت پانی بھی وہی ہے

 وہی ہے ریت پانی بھی وہی ہے

سمندر کی روانی بھی وہی ہے

وہی ناکامئ حسرت کا رونا

عبث کی کامرانی بھی وہی ہے

وہی دستور جنگل ہے یہاں پر

نظام حکمرانی بھی وہی ہے

Tuesday, 8 March 2022

دیکھتے دیکھتے دیکھتے رہ گئے

 دیکھتے دیکھتے، دیکھتے رہ گئے

مسکراتے ہوئے ہر ستم سہہ گئے

بات ہی بات میں بات نکلی تھی یوں

جو نہ کہنا تھا ہم وہ سبھی کہہ گئے

روکتے روکتے روک پائے نہ ہم

بہتے بہتے یونہی اشک پھر بہہ گئے

Monday, 7 March 2022

کتنے حیران ہو گئے صاحب

 کتنے حیران ہو گئے صاحب

کیوں پریشان ہو گئے صاحب

کل جو آباد تھے نگر سارے

آج ویران ہو گئے صاحب

دشمنِ جاں جو تھے کبھی میرے

دل کے مہمان ہو گئے صاحب

Sunday, 6 March 2022

غم خانۂ حیات نے جینے نہیں دیا

 غم خانۂ حیات نے جینے نہیں دیا

چند ایک معجزات نے مرنے نہیں دیا

شامِ فراق وصلِ غمِ جاں کے چاک کو

ان کی نوازشات نے سِینے نہیں دیا

خوشبو بہت عزیز تھی جس کو گلوں کے پاس

موسم کی واردات نے ٹکنے نہیں دیا

Saturday, 5 March 2022

اہل جہاں کے بیچ میں اپنی انا تراش

 اہلِ جہاں کے بیچ میں اپنی انا تراش

دستِ ہنر سے اپنے نیا نا خدا تراش

ہے درمیان اپنے مسافت بہت طویل

تدبیر کر جدید کوئی راستہ تراش

ایمان رب سے مانگ ہنر علم حلم بھی

امن و امان و صدق و صفا و سخا تراش