غم خانۂ حیات نے جینے نہیں دیا
چند ایک معجزات نے مرنے نہیں دیا
شامِ فراق وصلِ غمِ جاں کے چاک کو
ان کی نوازشات نے سِینے نہیں دیا
خوشبو بہت عزیز تھی جس کو گلوں کے پاس
موسم کی واردات نے ٹکنے نہیں دیا
ٹھہرے جو میرے گھر میں اجالے حسین تھے
جن کو سیاہ رات نے رکنے نہیں دیا
بکنے کی آرزو میں خریدار ہو گئے
ظلمت کے واقعات نے بکنے نہیں دیا
اس لب کدے کے حوض سے ایاغ جو ملا
ساقی کے کچھ نکات نے پینے نہیں دیا
ہم رک گئے غزالی! درِ یار پر، مگر
اک جذبۂ ثبات نے جھکنے نہیں دیا
امجد کلیم غزالی
No comments:
Post a Comment