Sunday, 6 March 2022

اپنے ہاتھ سے اپنی تقدیر بنا

 اپنے ہاتھ سے اپنی تقدیر بنا

تو عشق جیت جائے ایسی تدبیر بنا

میں رانجھا ڈھونڈ کے لاتا ہوں کہیں سے

تُو کسی کاغذ پہ کوئی ہیر بنا

پھر مانوں میں تیری کاریگری مصور

میرے ہنستے ہوئے یار کی تصویر بنا

منزل چاہتا ہے، مل جائے گی تجھے

عشق کی راہ پہ چل، عشق کو پیر بنا

آ مل کے بچاتے ہیں ہم مرزے کو

میں کمان بناتا ہوں تُو تیر بنا


شہزاد ڈوگر

No comments:

Post a Comment