اپنے ہاتھ سے اپنی تقدیر بنا
تو عشق جیت جائے ایسی تدبیر بنا
میں رانجھا ڈھونڈ کے لاتا ہوں کہیں سے
تُو کسی کاغذ پہ کوئی ہیر بنا
پھر مانوں میں تیری کاریگری مصور
میرے ہنستے ہوئے یار کی تصویر بنا
منزل چاہتا ہے، مل جائے گی تجھے
عشق کی راہ پہ چل، عشق کو پیر بنا
آ مل کے بچاتے ہیں ہم مرزے کو
میں کمان بناتا ہوں تُو تیر بنا
شہزاد ڈوگر
No comments:
Post a Comment